شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 548

شحنۂِ حق — Page 167

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۵۵ سرمه چشم آریه میں مکتی پا جائے گا تو پھر بھی مکتی پانا نہ پانا اس کا برا بر ہوگا کیونکہ صرف تھوڑے عرصہ تک ۱۰۷ مکتی خانہ میں پتھر کی طرح پڑا رہے گا۔ اور پھر جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں پر میشر اپنی تلون مزاجی سے اس پر ناحق ناراض ہو کر سخت ذلیل اور رسوا کر کے اس کو باہر نکال دے گا اور چوروں کی طرح ہاتھوں میں اس کے مجبوری کی ہتھکڑی ہوگی اور پاؤں میں روک کا زنجیر اور گردن میں پرمیشر کی خفگی کا ایک بڑا لمبارسا ہوگا اور پھر اس نیک بخت کو خواہ وہ اوتا ر ہو یا کوئی ایسا رشی ہو جس پر کوئی ویدا تر ا ہے یا کوئی دوسرا رکھی منی یا بھگت غرض کوئی ہو اس کو کھینچتے کھینچتے دنیا کے اسی گڑھے میں الٹا کر پھینک دیں گے جس سے وہ بیچارہ کروڑوں برس بلکہ ہزاروں ارب تک جان مار کر اور رو پیٹ کر اتفاقا نکل آیا تھا یہ آپ لوگوں کا پر میشر ہے اور یہ اس کی مکتی ہے اور یہ اس کا انعام واکرام ہے اور یہ اس کا ابتدا وانجام ہے۔ سوایسے پر میشر کو دور سے ہی سلام ہے۔ ایسے پر میشر کے یہ شعر مطابق حال ہے۔ با دوستان چه کردی کہ کنی بدیگراں ہم حقا کہ واجب آمد ز تو احتراز کردن اور اگر ماسٹر صاحب کا اعتراض سے یہ مطلب ہے کہ اسلامی بہشت میں صرف دنیوی نعمتوں کا ذکر ہے وصال الہی اور روحانی لذات کا کہیں ذکر نہیں تو ہم اس جھگڑے کے فیصلہ کرنے کے لئے یہ عمدہ طریق سمجھتے ہیں کہ ماسٹر صاحب کسی اخبار کے ذریعہ سے پختہ طور پر ہم کو یہ اطلاع دیں کہ ہاں میری یہی رائے ہے کہ قرآن شریف میں وصالِ الہی اور لذات روحانی کا کہیں ذکر نہیں مگر وید میں ایسا بہت کچھ ذکر ہے تو اس صورت میں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ صرف تین یا چار ہفتہ تک ایک مستقل رسالہ اسی بارہ میں بغرض مقابلہ وید و قرآن طیار کر کے جہاں تک ہو سکے بہت جلد چھپوا دیں گے اور سو روپیہ بطور انعام ایک نامی اور فاضل برہمو صاحب کے پاس جو آریوں کے بھائی بند ہیں امانت رکھ دیں گے پھر اگر ماسٹر صاحب بپابندی اپنے چاروں ویدوں کی سنگتا کے جن کو وہ الہامی