شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 548

شحنۂِ حق — Page 156

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۴۴ سرمه چشم آریہ بہت کچھ فرق آریہ سماج کے اصولوں سے رکھتا ہے جو آگے ظاہر کیا جائے گا۔ اقول جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ اس بیان میں ذرہ فرق نہیں بلا شبہ آریہ سماج والوں کے یہ دونوں اعتقاد ہیں جن پر تناسخ یعنی اواگون کی بنیاد ہے اگر کچھ فرق تھا تو آپ نے ظاہر کیا ہوتا ۔ آپ نے وعدہ تو کیا کہ آگے جا کر اس فرق کو بیان کریں گے مگر کسی جگہ بیان نہ کیا کہ یہ فرق ہے بلکہ آگے جا کر تو بقول شخصے که دروغ گورا حافظه نباشد ۔ آپ نے صاف اقرار کر دیا کہ ایسا ہی اعتقاد آریہ سماج والے رکھتے ہیں ۔ اصل بات تو یہ ہے کہ آپ لوگوں کے دل بھی اس بات پر شہادت ہیں کہ یہ وید کے دونوں اصول سخت درجہ کے مخالف عظمت و قدرت و توحید و شان الہی ہیں اسی واسطے کبھی کبھی لوگوں کے شرم سے آپ لوگوں کی طبیعت اخفا کی طرف رجوع کر جاتی ہے مگر ایسی باتوں کو آپ کیونکر چھپا سکتے ہیں جو پنڈت دیانند صاحب کے قلم سے مشتہر ہو چکی ہیں خویش و بیگا نہ اس پر اطلاع پا چکے ہیں۔ ماسٹر صاحب؟ آپ بُرا نہ مانیں آپ کے وید کی ا! آپ کے وید کی ایسی ایسی تعلیموں ۔ ہوں نے ناستک مت والوں ( دہریوں) کو بہت کچھ مدد دی ہے اگر غور سے دیکھا جائے تو آر یہ صاحبوں کا ویدا ایک ایسا خدا بتا رہا ہے جس سے حق جو آدمی ضرور ہے کہ نفرت کرے وہ اپنے پرمیشر کو اپنی بادشاہی کا خود موجب نہیں سمجھتے بلکہ ایسا خیال کرتے ہیں کہ وہ بادشاہت کسی بخت و اتفاق سے اس کو ملی ہے یعنی اس کی خوش قسمتی سے چند ارواح اور اجسام بنے بنائے اس کو مل گئے ہیں اور شاید ابھی ارواح اور اجسام کا کوئی اور دفینہ بھی کسی جگہ پوشیدہ ہو جس کی ہنوز پر میشر کو اطلاع نہیں ہوئی مگر کیا یہ ایسا اعتقاد ہے جس کو عظمت و قدرت و شان کبریائی حضرت اللہ جل شانہ کے مطابق کہہ سکتے ہیں خدائے تعالیٰ وہ کامل ذات ہے جو تمام فیوض کا مبدء اور تمام انوار کا سر چشمہ اور تمام چیزوں کا قیوم اور تمام خوبیوں کا جامع اور تمام کمالات کا مستجمع اور عجز اور نقص اور احتیاج الی الغیر سے پاک ہے لیکن تم سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ ارواح اور اجسام کی غیر مخلوق اور خود بخود ماننے سے ان تمام صفات کا ملہ الہیہ