شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 502

شہادة القرآن — Page 47

روحانی خزائن جلد ۶ لده حجة الاسلام مرز ا خدا بخش صاحب منشی عبدالحق صاحب - حافظ محمد یوسف صاحب ۔ شیخ رحمت اللہ صاحب۔ مولوی عبد الکریم صاحب ۔ منشی غلام قادر صاحب فصیح ۔ میاں محمد یوسف خاں ۔ صحیح ۔ صاحب ۔ شیخ نور احمد صاحب ۔ میاں محمد اکبر صاحب - حکیم محمد اشرف صاحب - حکیم نعمت اللہ صاحب ۔ ۔ مولوی غلام احمد صاحب انجینر میاں محمد بخش صاحب خلیفہ نورالدین صاحب۔ میاں محمد اسمعیل صاحب۔ تب ڈاکٹر صاحب اور میرے دوستوں میں جو میری طرف سے وکیل تھے کچھ گفتگو ہو کر بالا تفاق یہ بات قرار پائی کہ یہ مباحثہ بمقام امرت سر واقع ہو اور ڈاکٹر صاحب کی ۳ طرف سے اس جنگ کا پہلوان مسٹر عبد اللہ آتھم سابق اکسٹرا اسٹنٹ تجویز کیا گیا اور یہ بھی اُن کی طرف سے تجویز کیا گیا کہ فریقین تین تین معاون اپنے ساتھ رکھنے کے مجاز ہوں گے اور ہر یک فریق کو چھ چھ دن فریق مخالف پر اعتراض کرنے کے لئے دئے گئے اس طرح پر کہ اول چھ روز تک ہمارا حق ہوگا کہ ہم فریق مخالف کے مذہب اور تعلیم اور عقیدہ پر اعتراض کریں مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت اور اُن کے منجی ہونے کے بارہ میں ثبوت مانگیں یا اور کوئی اعتراض جو مسیحی مذہب پر ہو سکتا ہے پیش کریں ایسا ہی فریق مخالف کا بھی حق ہوگا کہ وہ بھی چھ روز تک اسلامی تعلیم پر اعتراض کئے جائیں ۔ اور یہ بھی قرار پایا کہ مجلسی انتظام کے لئے ایک ایک صدرانجمن مقرر ہو جو فریق مخالف کے گروہ کو شور وغوغا اور ناجائز کارروائی اور دخل بے جاسے روکے اور یہ بات بھی باہم مقرر اور مسلم ہو چکی کہ ہر ایک فریق کے ساتھ پچاس سے زیادہ اپنی قوم کے لوگ نہیں ہوں گے اور فریقین ایک سو ٹکٹ چھاپ کر پچاس پچاس اپنے اپنے آدمیوں کے حوالہ کریں گے اور بغیر دکھلا نے ٹکٹ کے کوئی اندر نہیں آسکے گا اور آخر پر ڈاکٹر صاحب کی خاص درخواست سے یہ بات قرار پائی کہ یہ بحث ۲۲ مئی ۱۸۹۳ء سے شروع ہونی چاہیے انتظام مقام مباحثہ اور تجویز مقام مباحثہ ڈاکٹر صاحب کے متعلق رہا