شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 502

شہادة القرآن — Page 392

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۹۰ شهادة القرآن احسان اٹھاوے۔ اس کے ظل حمایت میں بامن و آسایش رہ کر اپنا مقسوم کھاوے اس کے انعامات متواترہ سے پرورش پاوے پھر اسی پر عقرب کی طرح نیش چلاوے۔ اور دعا سے بھی انہوں نے اس گورنمنٹ کو بہت دفعہ بقیہ بہ صحت تمام چھاپا جاوے اور پھر دس ہیں نسخے اس کے گورنمنٹ میں اور باقی نسخہ جات متفرق مواضع حاشیہ پنجاب و هندوستان خاص کر سرحدی ملکوں میں تقسیم کئے جائیں ۔ یہ سچ ہے کہ بعض غم خوار مسلمانوں نے ڈاکٹر ہنٹر صاحب کے خیالات کا رد لکھا ہے مگر یہ دو چار مسلمانوں کا رڈ جمہوری رد کا ہرگز قائم مقام نہیں ہو سکتا ۔ بلا شبہ جمہوری رد کا ایسا اثر قوی اور پر زور ہوگا جس میں ڈاکٹر صاحب کی تمام غلط تحریریں خاک سے مل جائیں گی اور بعض نا واقف مسلمان بھی اپنے سچے اور پاک اصول سے بخوبی مطلع ہو جائیں گے اور گورنمنٹ انگلشیہ پر بھی صاف باطنی مسلمانوں کی اور خیر خواہی اس رعیت کی کما حقہ کھل جاوے گی اور بعض کو ہستانی جہلا کے خیالات کی اصلاح بھی بذریعہ اسی کتاب کے وعظ ونصیحت کے ہوتی رہے گی ۔ بالآخر یہ بات بھی ظاہر کرنا ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ اگر چه تمام ہندوستان پر یہ حق واجب ہے کہ بنظر ان احسانات کے کہ جو سلطنت انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامہ خلائق پر وارد ہیں سلطنت ممدوحہ کو خدا وند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور مثل اور نعماء الہی کے اس کا شکر بھی ادا کریں لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکر گزار ہوں گے اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے نعمت عظمی یقین نہ کریں ۔ ان کو سوچنا چاہیے کہ اس سلطنت سے پہلے وہ کس حالت پر ملالت میں تھے اور پھر کیسے امن وامان میں آ گئے ۔ پس فی الحقیقت یہ سلطنت ان کے لئے ایک آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے جس کے آنے سے سب تکلیفیں ان کی دور ہوئیں اور ہر ایک قسم کے ظلم و تعدی سے نجات حاصل ہوئی اور ہر یک نا جائز روک اور مزاحمت سے آزادی میسر آئی کوئی ایسا مانع نہیں کہ جو ہم کو نیک کام کرنے سے روک سکے یا ہماری آسائش میں خلل ڈال سکے۔ پس حقیقت میں خدا وند کریم و رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لئے ایک باران رحمت بھیجا ہے جس سے پودہ اسلام کا پھر اس ملک پنجاب میں سرسبز ہوتا جاتا ہے اور جس کے فوائد کا اقرار حقیقت میں خدا کے احسانوں کا اقرار ہے۔ یہی سلطنت ہے جس کی آزادی ایسی بدیہی اور مسلم الثبوت ہے کہ بعض دوسرے ملکوں سے مظلوم مسلمان ہجرت کر کے