شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 502

شہادة القرآن — Page 236

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۳۴ جنگ مقدس چونکہ خدا تعالیٰ علت العلل ہے بوجہ اپنے علت العلل ہونے کے ان دونوں فعلوں کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے لیکن اپنی پاک کلام میں اس نے بار ہا تصریح سے فرما دیا ہے کہ جو ضلالت کے اثر کسی کے دل میں پڑتے ہیں وہ اسی کی بداعمالی کا نتیجہ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر کوئی ظلم نہیں کرتا جیسا فرماتا ہے فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوْبَهُمْ (س (۹/۲۸) پس جبکہ وہ کج ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو کج کر دیا۔ پھر دوسرے مقام میں فرماتا ہے ۔ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا ان کے دلوں میں مرض تھی خدا تعالیٰ نے اس مرض کو زیادہ کیا یعنی امتحان میں ڈال کر اس کی حقیقت ظاہر کر دی پھر فرماتا ہے۔ بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ " یعنی خدا تعالی نے باعث ان کی بے ایمانیوں کے ان کے دلوں پر مہریں لگا دیں۔ لیکن یہ جبر کا اعتراض اگر ہو سکتا ہے تو آپکی کتب مقدسہ پر ہو گا ۔ دیکھو خروج ۳ خدا نے موسیٰ کو کہا۔ میں فرعون کا دل سخت کروں گا اور جب سخت ہوا تو اس ۲۹ ۱۳۹ کا نتیجہ جہنم ہے یا کچھ اور ہے۔ دیکھو خروج سر امثال باب پھر خروج استثنام خدا نے تم کو وہ دل جو سمجھے اور وہ آنکھیں جو دیکھیں اور وہ کان جو سنیں آج تک نہ دیئے ۔ اب دیکھئے کیسے ۱۸ ۱۴۸ اس نے ایک تقدیر مقرر کی جو ٹل نہیں سکتی جبر کی صاف مثال ہے۔ پھر دیکھو زبور اس رومیان کاریگری کا کاریگر پر اعتراض نہیں کر کر سکتے سکتے ۔ ۔ اب اب ان تمام آیات سے آپ کا اعتراض الٹ کر آپ ہی پر پڑا اور پھر بعد اس کے آپ نے جہاد پر اعتراض کر دیا ہے مگر یہ اعتراض طریق مناظرہ کے بالکل مخالف ہے اور آپ کی شرائط میں بھی یہی درج تھا کہ نمبر وار سوالات ہوں گے بجز اس کے کیا مطلب تھا کہ پہلے سوال کا جواب ہو جائے تو پھر دوسرا پیش ہو اور خبط بحث نہ ہو۔ اور آپ کے پہلے سوال کا جواب جو آپ نے عدل پر کیا کچھ نتیجہ رہ گیا تھا وہ یہ ہے کہ آپ کے اس خود ساختہ قانون کو حضرت مسیح توڑتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے بیان کے مطابق نجات کا مدار وعدوں پر رکھتے ہیں اور احکام الہی جن کی جزا وعدہ کے طور پر بیان کی گئی ما پیش کرتے ہیں جیسا کہ وہ فرماتے ہیں کہ مبارک وے جو غمگین ہیں کیونکہ وہ تسلی پائیں گے ر ل الصف : ٦ ٢ البقرة: ١ النساء : ۱۵۶ یا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ۹/۲۰ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)