شہادة القرآن — Page 216
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۱۴ جنگ مقدس بیان ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب ۳۱ رمئی ۱۸۹۳ء ناب کا یہ فرمانا کہ رحم اوّل اور فائ اور فائق درجہ پر ہے برخلاف بداہت کے را بات کے ہے کیونکہ بداہت یہ حکم کرتی ہے کہ کوئی صفت کسی دوسری صفت سے کم نہیں بجائے خود ہر ایک پورا مرتبہ رکھتی ہے۔ یہ جناب نے حق فرمایا ہے کہ جب تک قانون کسی تک نہ پہنچے وہ قانون شکن نہیں کہلا سکتا اور گناہ اس پر عائد نہیں ہوتا اسی واسطے وہ بچے جو ماہیت گناہ سے واقف نہیں اور دیوانہ مادر زاد گناہ نہیں کر سکتے ۔ بلکہ اگر کوئی شخص ماہیت کسی گناہ کی نہ جانتا ہو اور وہ اُس سے سرزد ہووے۔ مواخذہ عدل میں نہ آوے گا۔ اور اس کا وہ فعل گناہ نہ تصور کیا جائے گا۔ خدا اپنی مالکیت کی وجہ سے خواص اپنی صفات کے برخلاف اگر کچھ ۱۲ مالکیت جتائے تو سارا نقشہ اس کی قدوسی کا درہم برہم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا یہ صحیح نہیں کہ مالکیت کی وجہ سے جو چاہے سو کرے حتی کہ ظلم تک ۔ نیز عدل کو رحم سے اس طرح کا علاقہ تو نہیں کہ جو رحم ہے وہ عدل نہیں اور جو عدل ہے وہ رحم نہیں لیکن یہ ہر دو صفات واحد و اقدس خدا کی ہیں ۔ خدا غضب بے جا ہے یہ تو کلام الہی میں ہو نہیں سکتا مگر اس کو بھسم کرنے والی آگ بھی لکھا ہے جو گناہگاروں کو بھسم کرتی ہے ۔ استثنا قانون فعل مقنن ہے اور فعل ضرور ہے کہ اپنے فاعل سے بعد میں ہو لیکن عدل جو قانون بناتا ہے قانون جس کا فعل ہے ازلی و ابدی صفت ہے وہ عارضی طور سے پیدا نہیں ہوئی اور نہ وہ عارضی طرح سے جا سکتی ہے۔ اور یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ عدل اس کو کہا جائے کہ ہرجہ باقی رہ جائے اور گنہ گار رہا ہو جائے واضح رہے کہ دنیا کی عدالت عدالت نہیں مگر نظامت کا نام ہے کہ جس کا منشا یہ ہے کہ جرائم رو بہ تنزل رہیں نہ یہ کہ سزا کامل ہو جائے کیا ایک قاتل کو پھانسی دینے سے