سیرة الابدال

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 349 of 597

سیرة الابدال — Page 349

روحانی خزائن جلد ۲۰ اور وہیں فوت ہوئے کی ۳۴۵ چشمه سیحی پھر تعلیم کا یہ حال ہے کہ قطع نظر اس سے کہ اس پر چوری کا الزام لگایا گیا ہے انسانی قومی کی تمام ۔ شاخوں میں سے صرف ایک شاخ حلم اور درگزر پر انجیل کی تعلیم زور دیتی ہے اور باقی شاخوں کا خون کیا ہے حالانکہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ جو کچھ انسان کو قدرت قادر نے عطا کیا ہے کوئی چیز اس میں سے بیکار نہیں ہے۔ اور ہر ایک انسانی قوت اپنی اپنی جگہ پر عین مصلحت سے پیدا کی گئی ہے اور جیسے کسی وقت اور کسی محل پر حلم اور درگز ر عمدہ اخلاق میں سے سمجھے جاتے ہیں ایسا ہی کسی وقت غیرت اور انتظام اور مجرم کو سزا دینا اخلاق فاضلہ میں سے شمار کیا جاتا ہے۔ نہ ہمیشہ درگزر میشه درگز را در عفو قرین مصلحت ہے اور نہ ہمیشہ سزا۔ اور انتقام مصلحت کے مطابق ہے یہی قرآنی تعلیم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جَزَؤُا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ - یعنی بدی کی جزا اسی قدر ہے جس قدر جو لوگ مسلمان کہلا کر حضرت عیسی کو مع جسم عنصری آسمان پر پہنچاتے ہیں وہ قرآن شریف کے برخلاف ایک لغو بات منہ پر لاتے ہیں۔ قرآن شریف تو آیت فَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِی کے میں حضرت عیسی کی موت ظاہر کرتا ہے اور آیت قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا میں انسان کا مع جسم عنصری آسمان پر جانا ممتنع قرار دیتا ہے۔ پھر یہ کیسی جہالت ہے کہ کلام الہی کے مخالف عقیدہ رکھتے ہیں۔ توفی کے یہ معنی کرنا کہ مع جسم عنصری آسمان پر اٹھائے جانا اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی ۔ اول تو کسی کتاب لغت میں توفی کے یہ معنی نہیں لکھے کہ مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھایا جانا ۔ پھر ماسوا اس کے جبکہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی قیامت کے متعلق ہے یعنی قیامت کو حضرت عیسی خدا تعالیٰ کو یہ جواب دیں گے تو اس سے لازم آتا ہے کہ قیامت تو آ جائے گی مگر حضرت عیسی نہیں مریں گے اور مرنے سے پہلے ہی مع جسم عنصری خدا کے سامنے پیش ہو جائیں گے۔ قرآن شریف کی یہ تحریف کرنا یہودیوں سے بڑھ کر قدم ہے۔ منہ الشورى: ۴۱ المائدة۔ ۔ بنی اسرآئیل: ۹۴