سیرة الابدال

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 597

سیرة الابدال — Page 240

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۳۸ لیکچر سیالکوٹ اس کے معمولی انسان ہونے کے اُس کی بات کی طرف توجہ بھی نہیں ہوتی اور اُس کو حقیر اور ذلیل سمجھا جاتا ہے۔ اور کبھی شہوات نفس امارہ کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ گو سمجھ بھی آجاوے کہ جو فرمایا گیا ہے وہ سب سچ ہے تا ہم نفس اپنے نا پاک جذبات کا ایسا مغلوب ہوتا ہے کہ وہ اس راہ پر چل ہی نہیں سکتا جس پر واعظ ناصح چلانا چاہتا ہے اور یا فطرتی کمزوری قدم اُٹھانے سے روک دیتی ہے۔ پس اس لئے حکمتِ الہی نے تقاضا فرمایا کہ جو لوگ اُس کی طرف سے مخصوص ہو کر آتے ہیں اُن کے ساتھ کچھ نصرت الہی کے نشان بھی ہوں جو کبھی رحمت کے رنگ میں اور کبھی عذاب کے رنگ میں ظاہر ہوتے رہیں ۔ اور وہ لوگ انہیں نشانوں کی وجہ سے خدا کی طرف سے بشیر اور نذیر کہلاتے ہیں مگر رحمت کے نشانوں سے وہ مومن حصہ لیتے ہیں جو خدا کے حکموں کے مقابل پر تکبر نہیں کرتے اور خدا کے فرستادہ لوگوں کو تحقیر اور توہین سے نہیں دیکھتے اور اپنی فراست خدا داد سے اُن کو پہچان لیتے ہیں اور تقویٰ کی راہ کو محکم پکڑ کر بہت ضد نہیں کرتے اور نہ دنیا داری کے تکبر اور جھوٹی وجاہتوں کی وجہ سے کنارہ کش رہتے ہیں بلکہ جب دیکھتے ہیں کہ سنت انبیاء کے موافق ایک شخص اپنے وقت پر اُٹھا ہے جو خدا کی طرف بلاتا ہے اور اُس کی باتیں ایسی ہیں کہ اُن کی صحت ماننے کے لئے ایک راہ موجود ہے اور اس میں نصرت الہی اور تقویٰ اور دیانت کے نشان پائے جاتے ہیں اور سنن انبیاء علیہم السلام کے پیمانہ کے رو سے اُس کے قول یا فعل پر کوئی اعتراض نہیں آتا تو ایسے انسان کو قبول کر لیتے ہیں بلکہ بعض سعید ایسے بھی ہیں کہ چہرہ دیکھ کر پہچان جاتے ہیں کہ یہ کذاب اور مکار کا چہرہ نہیں ۔ پس ایسے لوگوں کے لئے رحمت کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور وہ دمبدم ایک صادق کی صحبت سے ایمانی قوت پا کر اور پاک تبدیلیوں کا مشاہدہ کر کے تازہ بتازہ نشانوں کو دیکھتے رہتے ہیں اور تمام حقائق اور معارف اور تمام نصرتیں اور تمام تائیدیں اور تمام قسم کے اعلام غیب اُن کے حق میں نشان ہی ہوتے