سیرة الابدال — Page 229
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۲۷ لیکچر سیالکوٹ ☆ انہیں کے ذریعہ سے دونوں میں پیدا ہوتا ہے اور اُن سے تعلق توڑنا ایسا ہوتا ہے کہ جیسا کہ ایک شاخ اپنے درخت سے تعلق توڑ دے اور ان تعلقات میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ ۳۲) تعلق کرنے کے ساتھ ہی بشرط مناسبت روحانیت کا نشو و نما چارسو شروع ہو جاتا ہے اور تعلق توڑنے کے ساتھ ہی ایمانی حالت پر گرد و غبار آنا شروع ہو جاتا ہے۔ پس یہ نہایت مغرورانہ خیال ہے کہ کوئی یہ کہے کہ مجھے خدا کے نبیوں اور رسولوں کی ضرورت نہیں اور نہ کچھ حاجت۔ یہ سلب ایمان کی نشانی ہے اور ایسے خیال والا انسان اپنے تئیں دھوکا دیتا ہے جب کہ وہ کہتا ہے کہ کیا میں نماز نہیں پڑھتا یا روزہ نہیں رکھتا یا کلمہ گو نہیں ہوں ۔ چونکہ وہ سچے ایمان اور سچے ذوق وشوق سے بے خبر ہے اس لئے ایسا کہتا ہے۔ اُس کو سوچنا چاہیے کہ گو انسان کو خدا ہی پیدا کرتا ہے مگر کس طرح اُس نے ایک انسان کو دوسرے انسان کی پیدائش کا سبب بنا دیا ہے۔ پس جس طرح جسمانی سلسلہ میں جسمانی باپ ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے انسان پیدا ہوتا ہے۔ ایسا ہی روحانی سلسلہ میں روحانی باپ بھی ہیں جن سے روحانی پیدائش ہوتی ہے۔ ہوشیار رہو اور اپنے تئیں صرف ظاہری صورت اسلام سے دھوکا مت دو اور خدا کی کلام کو غور سے پڑھو کہ وہ تم سے کیا چاہتا ہے۔ وہ وہی امرتم سے چاہتا ہے جس کے بارہ میں سورہ فاتحہ میں تمہیں دعا سکھلائی گئی ہے یعنی یہ دعا کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ لے پس جب کہ خدا تمہیں یہ تاکید کرتا ہے کہ پنج وقت یہ دعا کرو کہ وہ نعمتیں جو نبیوں اور رسولوں کے پاس ہیں وہ تمہیں بھی ملیں ۔ پس تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ کے وہ نعمتیں کیونکر پا سکتے ہو۔ لہٰذا ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پر پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً بعد وقت آتے رہیں جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ۔ اب کیا تم خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرو گے اور اُس کے قدیم قانون کو توڑ دو گے۔ کیا نطفہ کہہ سکتا ہے کہ میں باپ کے ذریعہ سے پیدا ہونا نہیں چاہتا تھا ؟ کیا کان کہہ سکتے ہیں کہ ہم ہوا کے ذریعہ سے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے دلوں “ ہونا چاہیے۔ (ناشر) لي الفاتحة : ۷۶