سَت بچن — Page xxxvii
کرتا ہے کوئی معمولی آدمی نہیں ہو سکتا۔‘‘ ۲۔’’سپریچوال جرنل‘‘ بوسٹن نے لکھا :۔’’یہ کتاب بنی نوع <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کے لئے ایک خالص بشارت ہے۔‘‘ ۳۔’’تھیا سوفیکل بُک نوٹس‘‘ نے لکھا :۔’’یہ کتاب محمد (صلعم) کے مذہب کی بہترین اور سب سے زیادہ دلکش تصویر ہے۔‘‘ ۴۔’’<mark>ان</mark>ڈین ریویو‘‘ نے لکھا :۔’’اِس کتاب کے خیالات روشن، جامع اور حکمت سے پُر ہیں اور پڑھنے والے کے منہ سے بے اختیار اس کی تعریف نکلتی ہے۔‘‘ ۵۔’’مسلم ریویو‘‘ نے لکھا:۔’’ اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا اس میں بہت سے سچّے اور عمیق اور اصلی اور رُوح افزا خیالات پائے گا۔‘‘ (سلسلہ احمدیہ مؤلفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ ۶۹) اس مضمون کی یہ خوبی ہے کہ اِس میں <mark>کس</mark>ی دوسرے مذہب پر حملہ نہیں کیا گیا۔بلکہ محض اسلام کی خوبیاں بی<mark>ان</mark> کی گئی ہیں اور سوالات کے جوا<mark>بات</mark> قرآن مجید ہی سے دیئے گئے ہیں اور ایسے <mark>طور</mark> پر دیئے گئے ہیں کہ جن سے اسلام کا تمام مذاہب سے اکمل اور احسن اور اتم ہونا ثابت ہو تا ہے۔خا<mark>کس</mark>ار جلال الدین شمس نوٹ: ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کا موجودہ ایڈیشن اس مسودہ کے مطابق ہے۔جسے حضرت مولوی عبد الکریم صاحبؓ سیالکوٹی نے اس جلسہ میں پڑھ کر سنایا تھا۔یہ مسودہ خلافت لائبریری ربوہ میں موجود ہے اور اس کے متعلق حضرت بھائی عبد الرحمن صاحبؓ قادی<mark>ان</mark>ی تحریر فرماتے ہیں: ’’حضرت منشی جلال الدین صاحب بل<mark>ان</mark>وی اور حضرت پیر جی سراج الحق صاحب نعم<mark>ان</mark>ی رضو<mark>ان</mark> اللہ علیہم دونوں بزرگوں کے ہاتھ کا نقل کردہ حضرت اقدسؑ کا وہ مضمون جس پر سے حضرت مول<mark>ان</mark>ا مولوی عبد الکریم صاحب نے اس جلسہ میں پڑھ کر سنایا تھا آج تک میرے پاس محفوظ ہے مگر چونکہ اس مقدس اور قیمتی ام<mark>ان</mark>ت کی حفاظت کا حق ادا کرنے سے