سَت بچن — Page 285
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۸۵ ست بچن نے باتیں بنالیں کہ وہ قبر میں زندہ ہو گیا تھا مگر افسوس کہ انہوں نے نہ سوچا کہ یہودیوں کا تو یہ ۱۲۱ سوال تھا کہ ہمارے روبرو ہمیں زندہ ہو کر دکھلا دے پھر جبکہ ان کے رو برو زندہ نہ ہو سکا اور نہ قبر میں زندہ ہو کر ان سے آکر ملاقات کی تو یہودیوں کے نزدیک بلکہ ہر یک محقق کے نزدیک اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حقیقت میں زندہ ہو گیا تھا اور جب تک ثبوت نہ ہو تب تک اگر فرض بھی کر لیں کہ قبر میں لاش گم ہوگئی لاش گم ہو گئی تو اس سے زندہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ عند العقل یقینی طور پر یہی ثابت ہو گا کہ در پردہ کوئی کرامات دکھلانے والا چرا کر لے گیا ہو گا دنیا میں بہتیرے ایسے گزرے ہیں کہ جن کی قوم یا معتقدوں کا یہی اعتقاد تھا کہ اُن کی نعش گم ہو کر وہ معہ جسم بہشت میں پہنچ گئی ہے تو کیا عیسائی قبول کر لیں گے کہ فی الحقیقت ایسا ہی ہوا ہو گا مثلاً دور نہ جاؤ بابا نانک صاحب کے واقعات پر ہی نظر ڈالو کہ ۷ ۱ لاکھ سکھ صاحبوں کا اسی پر اتفاق ہے کہ در حقیقت وہ مرنے کے بعد معہ اپنے جسم کے بہشت میں پہنچ گئے اور نہ صرف اتفاق بلکہ ان کی معتبر کتابوں میں جو اُسی زمانہ میں تالیف ہوئیں یہی لکھا ہوا ہے۔ اب کیا عیسائی صاحبان قبول کر سکتے ہیں کہ حقیقت میں بابا نانک صاحب معہ جسم بہشت میں ہی چلے گئے ہیں افسوس کہ عیسائیوں کو دوسروں کیلئے تو فلسفہ یاد آ جاتا ہے مگر اپنے گھر کی نامعقول باتوں سے فلسفہ کو چھونے بھی نہیں دیتے ۔ اگر عیسائی صاحبان کچھ انصاف سے کام لینا چاہیں تو جلد سمجھ سکتے ہیں کہ سکھ صاحبوں کے دلائل بابا نانک صاحب کی نعش کم ہونے اور معہ جسم بہشت میں جانے کے بارے میں عیسائیوں کی مزخرفات کی نسبت بہت ہی قوی اور قابل توجہ ہیں اور بلا شبہ انجیل کی وجوہ سے زبردست ہیں کیونکہ اول تو وہ واقعات اُسی وقت بالا والی جنم ساکھی میں لکھے گئے مگر انجیلیں یسوع سے بہت برس بعد بھی بعد لکھی گئیں پھر ایک اور ترجیح بابا نانک صاحب کے و بانا واقعہ کو یہ ہے کے زمانہ سے : ۔ کہ یسوع کی طرف جو یہ کرامت منسوب کی گئی ہے تو یہ در حقیقت اُس ندامت کی پردہ پوشی کی غرض سے معلوم ہوتی ہے جو یہودیوں کے سامنے حواریوں کو اُٹھانی پڑی کیونکہ جب یہودیوں نے یسوع کو صلیب پر کھینچ کر پھر اُس سے یہ معجزہ چاہا کہ اگر وہ اب زندہ