سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 550

سَت بچن — Page 280

۱۵۶ روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۸۰ ست بچن اس زمانہ میں جبکہ حق اور باطل کے معلوم کرنے کیلئے بہت سے وسائل پیدا ہو گئے ہیں ہمارے ملک میں تین بڑے مذہب بالمقابل کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں ان مذاہب ثلثہ میں سے ہر یک صاحب مذہب کو دعویٰ ہے کہ میرا ہی مذہب حق اور درست ہے اور تعجب کہ کسی کی زبان بھی اس بات کے انکار کی طرف مائل نہیں ہوتی کہ اُس کا مذہب سچائی کے اصولوں پر مبنی نہیں ۔ لیکن میں اس امر کو باور نہیں کر سکتا کہ جیسا کہ ہمارے مخالفوں کی زبانوں کا دعوئی ہے۔ ایسا ہی ایک سیکنڈ کیلئے اُن کے دل بھی اُن کی زبانوں سے اتفاق کر سکتے ہیں۔ سچے مذہب کی یہ ایک بڑی نشانی ہے کہ قبل اس کے جو ہم اُس کی سچائی کے دلائل بیان کریں خود وہ اپنی ذات میں ہی ایسا روشن اور درخشاں ہوتا ہے کہ اگر دوسرے مذاہب اس کے مقابل پر رکھے جائیں تو وہ سب تاریکی میں پڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور اس دلیل کو اُس وقت ایک دانشمند انسان صفائی سے سمجھ سکتا ہے جبکہ ہر ایک مذہب کو اُس کے دلائل مخترعہ سے علیحدہ کر کے صرف اُس کے اصل الاصول پر نظر کرے یعنی ان مذاہب کے طریق خدا شناسی کو فقط ایک دوسرے کے مقابل پر رکھ کر جانچے اور کسی مذہب کے عقیدہ خدا شناسی پر بیرونی دلائل کا حاشیہ نہ چڑھاوے بلکہ مجرد عن الدلائل کر کے اور ایک مذہب کو دوسرے مذہب - کے مقابل پر رکھ کر پر کھے اور سوچے کہ کسی مذہب میں ذاتی سچائی کی چمک پائی جاتی ہے اور کس میں یہ خاصیت ہے کہ فقط اُس کے طریق خدا شناسی پر ہی نظر ڈالنا دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے مثلاً وہ تین مذہب جن کا میں ابھی ذکر کر چکا ہوں یہ ہیں آرا یہ۔ عیسائی۔ اسلام اگر ہم ان آریہ ۔ تینوں کی اصل تصویر دکھلانا چاہیں تو تفصیل ذیل ہے۔ آریہ مذہب کا ایک ایسا خدا ہے جس کی خدائی اپنی ذاتی قوت اور قدرت پر چلنا غیر ممکن ہے اور اُس کی تمام اُمیدیں ایسے وجودوں پر لگی ہوئی ہیں جو اُس کے ہاتھ سے پیدا نہیں ہوئے حقیقی خدا کی قدرتوں کا انتہا معلوم کرنا انسان کا کام نہیں مگر آریوں کے پرمیشر کی قدرت