سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 550

سَت بچن — Page 274

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۷۴ ست بچن ۱۵۰ کیا گیا تھا اسلئے تمام اصلاح اس میں رکھی گئی اور اسی لئے قرآنی تعلیم کا دین اسلام کہلایا اور اسلام کا لقب کسی دوسرے دین کو نہ مل سکا کیونکہ وہ تمام ادیان ناقص اور محدود تھے غرض جبکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے تو کوئی عقلمند مسلمان کہلانے سے عار نہیں کر سکتا ہاں اسلام کا دعوئی اسی قرآنی دین نے کیا ہے اور اسی نے اس عظیم الشان دعوٹی کے دلائل بھی پیش کئے ہیں اور یہ بات کہنا کہ میں مسلمان نہیں ہوں یہ اس قول کے مساوی ہے کہ میرا دین ناقص ہے۔ یہ بات بھی مجھے بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ حقیقی خوش حالی جس کی طلب نے انسان کو مذہب کا طالب بنایا ہے بجز اسلام کے اور کسی جگہ مل نہیں سکتی جس وقت اس ضروری سے سوال پر ہم غور کرتے ہیں کہ کیونکر ہم نہایت خوشحالی سے اس پر فتنہ دنیا سے سفر کر سکتے ہیں تو ہماری روح جو سچے اور کامل آرام کو چاہتی ہے معا یہ جواب دیتی ہے کہ ہماری کامل اور لازوال خوش حالی کیلئے دو چیزوں کی ضرورت ہے اول ۔ یہ کہ اس فانی زندگی کے فانی تعلقات میں ہم ایسے اسیر اور مقید نہ ہوں کہ ان کا چھوڑنا ہمارے لئے عذاب الیم ہو۔ دوم ۔ یہ کہ ہم در حقیقت خدا تعالیٰ کو ان تمام چیزوں پر مقدم رکھ لیں اور جس طرح ایک شخص بالا رادہ سفر کر کے ایک شہر کو چھوڑتا اور دوسرے شہر میں آجاتا ہے اسی طرح ہم اپنے ارادہ سے دنیا کی زندگی کو چھوڑ دیں اور خدا کے لئے ہر ایک دکھ کو قبول کریں اگر ہم ایسا کریں تو اپنے ہاتھ سے اپنے لئے بہشت کی بنیادی اینٹ رکھیں گے اسلام کیا چیز ہے؟ یہی کہ ہم اس سفلی زندگی کو کھو دیں اور نابود کریں اور ایک اور نئی پاک زندگی میں داخل ہوں اور یہ ناممکن ہے جب تک کہ ہماری تمام قومی خدا کی راہ میں قربان نہ ہو جائیں اسلام پر قدم مارنے سے نئی زندگی ملتی ہے اور وہ انوار اور برکات حاصل ہوتے ہیں کہ اگر میں بیان کروں تو مجھے شک ہے کہ اجنبی لوگوں میں سے کوئی اُن پر اعتبار بھی کرلے گا۔ خدا ہے اور اُس کی ذات پر ایمان لانا اور در حقیقت اُسی کا