سَت بچن — Page 246
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۴۶ ست بچن ۱۲۲ سمجھتے تھے تو پھر یہ شعر ان کے مشرب کے مخالف کیوں ہوا افسوس کہ ٹرمپ صاحب نے اس بات سے بھی آنکھیں بند کر لیں کہ باوا صاحب گرنتھ میں خود اقرار کرتے ہیں کہ بغیر کلمہ پڑھنے کے بخت بیدار نہیں مل سکتا اور بغیر درود پڑھنے کے آخرت کی برکات حاصل نہیں ہو سکتیں اور جنم ساکھی کلاں کے وہ اشعار بھی ٹرمپ کو یاد نہ رہے جس میں لکھا ہے کہ وہ لوگ لعنتی ہیں جو نماز نہیں پڑھتے ۔ کیا یہ تمام اشعار ٹرمپ صاحب کی نظر سے نہیں گزرے تعجب کہ ڈاکٹر ٹرمپ صاحب خود اپنے ہاتھ کی تحریروں کے برخلاف رائے ظاہر کر رہے ہیں اور گوان کا بیان ہے کہ میں نے سات برس محنت کر کے گرنتھ کا ترجمہ لکھا ہے مگر اُن کی رائے ایسی ہلکی اور خفیف اور سطحی ہے کہ اگر ایک گہری نگاہ کا آدمی سات دن بھی اس بارے میں کوشش کرے تو بے شک اس کی مخالفانہ رائے اُن کی سات برس کی رائے پر غالب آ جائے گی۔ ہمیں ٹرمپ صاحب کے بیان پر نہایت افسوس آیا ہے کہ وہ اقرار کے ساتھ پھر انکار کو جمع کرتے ہیں اور اس نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے جس تک ایک صاف دل اور محقق آدمی پہنچ جاتا ہے بہر حال ہم نے اُن کی وہ شہادت جس نے اُن کو نہایت گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے اُنہیں کی کتاب میں سے نقل کر کے اس جگہ لکھ دی ہے یعنی با وا صاحب کا یہ مقولہ کہ بغیر شفاعت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کو نجات نہیں ملے گی ایسی باتوں کو یقینی طور پر قبول کرنے کیلئے یہ قرینہ کافی ہے کہ یہ تمام کتا بیں سکھ صاحبوں کی قلم سے نکلی ہیں اور وہ کسی طرح اس بات پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ باوا صاحب کے اسلام کی نسبت کوئی اشارہ بھی اُن کی کتابوں میں پایا جائے پس جو کچھ بر خلاف منشاء اُن کی کتابوں میں اب تک موجود ہے یہ قوی دلیل اس بات پر ہے کہ یہ باتیں با وا صاحب کی نہایت یقینی تھیں اور بہت شہرت پا چکی تھیں اسلئے وہ لوگ با وجو د سخت مخالفت کے پوشیدہ نہ کر سکے اور نہ اپنی کتابوں سے مٹا سکے اور بہر حال اُن کو لکھنا پڑا مگر اُن کا درجہ ثبوت کم کرنے کیلئے یہ دوسری تدبیر ان کو سوجھی کہ ان کے مخالف باتیں بھی لکھ دیں پس اس صورت میں وہ