سَت بچن — Page 239
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۳۹ ست بچن دے کر آپ چاہا کہ وہ لوگ اپنے خیال کو پورا کریں تو اب ہم منصف مزاج سکھ صاحبوں سے ۱۱۵ پوچھتے ہیں کہ جو تحریر پر چہ خیر خواہ عام امرت سر مرقومہ ۲۶ راکتوبر ۱۸۹۵ء میں اس مضمون کی چھپی ہے کہ کچھ عجب نہیں کہ ست بچن کا زہرا گلا ہوا ایک نئی رستخیز کا باعث ہو اور ایک دوسرے ۱۸۵۷ء کا پیش خیمہ ہو کیا یہ ان بزرگوں کی رائے اور خیال کے موافق ہے جنہوں نے جانشینی کے پہلے موقعہ میں ہی نہایت نرمی سے یہ فیصلہ دیا کہ مسلمان اپنے زعم اور خیال کے موافق باوا صاحب کی گور منزل کریں اور ہندو اپنے زعم کے موافق کریں تو کیا اس فیصلہ کا خلاصہ مطلب یہ نہیں تھا کہ باوانا تک صاحب کی نسبت ہر یک شخص ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے اپنی رائے زنی میں آزاد ہے جو لوگ با وا صاحب کو مسلمان خیال کرتے ہیں وہ مسلمان خیال کریں جنازہ پڑھیں اُن کا اختیار ہے اور ہندو جو کریں اُن کا اختیار ۔ پھر جبکہ باوا صاحب کے بعد پہلی جانشینی بنی - کے وقت میں ہی پہلے جاستین جانشین او اور مہاتما آدمیوں کے عہد میں جو بیشک خدا ترسی اور عقلمندی اور حقیقت فہمی اور واقعہ شناسی میں آپ صاحبوں سے ہزار درجہ بڑھ کر تھے یہ فیصلہ ہوا جو اوپر لکھ چکا ہوں تو پھر ایسی مقدس چیف کورٹ کے فیصلہ سے جس کی صداقت پر آپ کو بھروسہ چاہئے تجاوز کر کے اس عاجز کی اس رائے کو ہنگامہ محشر کا نمونہ سمجھنا کیا ایسا کرنا اچھے مسلمانوں اور شریف آدمیوں کو مناسب ہے اے معزز سکھ صاحبان ! آپ یا درکھیں کہ یہ وہی مہ کی طرف سے مدلل دعوئی ہے جس کی ڈگری آپ کے خدا ترس بزرگ مسلمانوں کو دے چکے ہیں اور اُن کے حق میں اپنی قلم سے فیصلہ کر چکے ہیں اب ساڑھے تین سو برس کے بعد آپ کی یہ عذر معذرت خارج از میعاد ہے کیونکہ مقدمہ ایک با اختیار عدالت سے انفصال پاچکا ہے اور وہ حکم قریباً چار سو برس تک واقعی اور صحیح مانا گیا ہے اور آج تک کوئی جرح یا حجت اُس کی نسبت پیش نہیں ہوئی تو کچھ شک نہیں کہ اب وہ ایک ناطق فیصلہ قرار پا گیا جس کی ترمیم تنسیخ آپ کے اختیار میں نہیں ۔ آپ لوگ اُن بزرگوں کے جانشین ہیں جو اس جھگڑے کے اول مرتبہ کے وقت مسلمان دعویداروں سے نہایت نرمی سے پیش آئے تھے اور ایک ذرہ بھی ہندوؤں