سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 550

سَت بچن — Page 215

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۱۵ ست بچن احتیاط سے کام نہیں لیا گیا اس لئے باوجود اس خیال کے یہ دوسرا شبہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ 91 باوا صاحب کے اشعار میں اجنبی اشعار بہت ملائے گئے ہیں اور ان کے نام سے اپنا سکہ چلایا گیا ہے پھر جس گرنتھ میں ایسا گڑ بڑ پڑا ہوا ہے وہ بحر کسی خاص معیار کے ہرگز قبول کرنے کے لائق نہیں اور عند العقل چولہ صاحب اور باوا صاحب کے چلوں سے بڑھ کر اور کوئی معیار نہیں اور نیز با وا صاحب کے وہ اشعار بھی معیار میں داخل ہیں جن میں اُنہوں نے صاف اقرار کیا ہے کہ بغیر اسلام کے کسی کی نجات نہیں اور یہ عقیدہ باوا صاحب کی آخری عمر کا معلوم ہوتا ہے اور یہ کچھ عجیب نہیں کہ ابتدائی عمر کے خیالات آخری عمر کے خیالات سے کچھ تناقض رکھتے ہوں بلکہ حقیقتاً ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ با واصاحب رفتہ رفتہ حق کی طرف جھکتے چلے آئے ہیں یہاں تک کہ آخری عمر میں چولہ بنا کر اسلامی شعار ظاہر کرنے کے لئے پہن لیا اور آخری عمر میں ہی حج کیا اور آخری عمر میں ہی چلہ کشی کی سو آخری عمر کے قول اور فعل قابل اعتبار ہیں اور اس کے مخالف سب رڈی۔ بالآخر یہ بھی یادر ہے کہ باوانا تک صاحب کے اشعار پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے که با وا صاحب اپنی گذشتہ زندگی کو نہایت غفلت اور خطا و سہو کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اپنی ذات کی نسبت بار بار یہ لفظ استعمال کرتے ہیں کہ پاپی اور پیچ اور غفلت سے بھرا ہوا اور بخیل اور غافل وغیرہ وغیرہ سو اس صورت میں کچھ تعجب کی بات نہیں کہ جیسا کہ اڈیٹر صاحب خالصہ بہادر فرماتے ہیں کہ باوانا تک صاحب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اپنے اشعار میں ہتک آمیز الفاظ بھی استعمال میں لاتے رہے ہیں یہ بھی کسی ایسے زمانہ کے واقعات ہوں جبکہ باوا صاحب اُس حجاب اور غفلت میں پڑے ہوئے تھے جس کا اُن کو خود اقرار ہے کیونکہ باوا صاحب اپنے بے شمار گناہوں کا خود اقرار کرتے ہیں اور اپنی گذشتہ غلطیوں کے آپ اقراری ہیں جیسا کہ وہ گرنتھ کے صفحہ ۲۲۴ میں فرماتے ہیں۔ جینا سمند ر سا گر نیر بھر یاتے تے اوگن ہمارے دیا کرو کچھ مہر آیا ہو ڈبدے پتھر تارے یعنی جس قدر سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے اُسی قدر ہمارے گناہ اور عیب ہیں کچھ رحم اور مہر کرو اور ایسے پتھروں کو