سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 550

سَت بچن — Page 192

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۹۲ ست بچن ﴿۲۸﴾ اور چالیس روز تک روضہ شاہ شمس تبریز پر چلہ میں بیٹھے اور یہ وہ باتیں ہیں جو ایسے طور پر ثابت ہوگئی ہیں جو حق ثابت ہونے کا ہے پھر اسی پر باوا صاحب نے کفایت نہیں کی بلکہ ان لوگوں کی طرح جو غلبہ عشق میں دیوانہ کی مانند ہو جاتے ہیں چولہ پہنا جس پر لا اله الا الله محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا ہم باوا صاحب کی کرامت کو اس جگہ مانتے ہیں اور قبول کرتے ہیں کہ وہ چولہ اُن کو غیب سے ملا اور قدرت کے ہاتھ نے اس پر قرآن شریف لکھ دیا ان تمام امور سے ثابت ہے کہ با وانا تک صاحب نے دل و جان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو قبول کیا اور نیز اُن کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اعلیٰ درجہ کے اولیاء پاک زندگی والے ہوئے ہیں تبھی تو وہ بعض ہندوستان کے اولیاء کے مقابر پر چلہ کشی کرتے رہے اور پھر بغداد میں جا کر سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے روضہ پر خلوت گزین ہوئے اگر باوا صاحب ۔ نے اس عظمت اور وقعت کی نظر سے کسی اور مذہب کو بھی دیکھا ہے تو ان تمام واقعات کے مقابل پر وہ واقعات بھی پیش کرنے چاہئے ورنہ یہ امر تو ثابت ہو گیا کہ باوا صاحب ہندو مذہب کو ترک کر کے نہایت صفائی اور صدق سے اسلام میں داخل ہو گئے ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کہ کیسے زبردست قرائن ننگی تلواریں لے کر آپ کے شبہات کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں تمام واقعات جو ہم نے لکھے ہیں اُن کو نظر یکجائی سے دل کے سامنے لاؤ تا اُس سچے اور یقینی نتیجہ تک پہنچ جاؤ جو مقدمات یقینیہ سے پیدا ہوتا ہے اور یہ بڑی نادانی ہے کہ کوئی واہیات اور بے سر و پا شعر ناحق با وا صاحب کی طرف منسوب کر کے اس کو ایک یقینی امر سمجھ لیں ۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ با واصاحب کے زمانہ کے بعد متعصب لوگوں نے بعض اقوال افترا کے طور پر ان کی طرف منسوب کر دیتے ہیں گرنتھ کے بعض اشعار اور بعض مضامین جنم ساکھیوں کے نہایت مکر وہ جعل سازیوں سے لکھے گئے ہیں اس کی یہ وجہ تھی کہ متعصب لوگوں نے جب دیکھا کہ باوا صاحب کی تحریروں سے تو صاف اور کھلے کھلے اُن کا اسلام ثابت ہوتا ہے تو اُن کو اسلام کا مخالف ٹھہرانے کیلئے جعلی طور پر بعض شبد آپ بنا کر اُن کی طرف منسوب کر دیئے اور جعلی قصے لکھ دیئے اور وہ دوطور کی چالا کی عمل میں لائے ہیں اول ایسے اشعار جو باوا صاحب کے اسلام پر دلالت کرتے تھے گرنتھ سے عمد اخارج رکھے حالانکہ چشتی خاندان کے فقراء جن کے سلسلہ میں باوا صاحب مرید تھے اب تک سینہ بہ سینہ