سَت بچن — Page 175
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۷۵ ست بچن اُن ملکوں میں علانیہ طور پر مسلمان رہا اور ایک پرہیز گار اور نیک بخت مسلمان کی طرح نماز اور ۵۵ روزہ کی پابندی اختیار کی یہ تو ظاہر ہے کہ ان ملکوں کے لوگ ہندوؤں سے بالطبع کراہت کرتے ہیں اور اُن کو کافر اور بے دین سمجھتے ہیں پھر وہ باوا صاحب کی تعظیم و تکریم بغیر ان کے ثبوت اسلام کے کیونکر کر سکتے تھے غرض بخارا کے لوگوں میں یہ واقعہ مشہورہ ہے کہ باوانا تک صاحب مسلمان تھے اور نانک صاحب کے بعض فارسی اشعار انہیں کے سنانے کے لئے بنائے گئے تھے چنانچہ یہ شعر بھی انہیں میں سے ہے۔ ★ یک عرض کردم پیش تو در گوش کن کرتار حقا کریم کبیر تو بے عیب پروردگار غرض اس بات کے ثبوت کے لئے کہ چولہ در حقیقت نانک صاحب کی طرف ہی ہے یہ وجوہ کافی اور شافی اور تسلی بخش ہیں کہ اسی چولہ کا ذکر انگر اور بالا کی اُس جنم ساکھی میں مذکور ہے جو اُسی زمانہ میں تالیف ہوئی۔ پھر دوسرا ثبوت وہ کتاب ہے جو کابلی مل کی اولاد کے ہاتھ میں ہے جس کا نام چولہ ساتھی ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ چولہ نا تک صاحب کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا تھا اور جتنے گرو بعد میں ہوئے ہیں سب کا اس چولہ سے برکت ڈھونڈ نا اس میں مذکور ہے یہ دوسرا ثبوت اس بات پر ہے کہ چولہ خود نا تک صاحب کا ہی تھا جس کی نسبت ابتدا سے یقین کیا گیا تھا کہ اس میں بہت سی برکتیں ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ تیسرا ثبوت یہ ہے کہ چولہ کی تعظیم اور تکریم برابر چار سو برس سے چلی آتی ہے پس یہ عملی حالت جو ہر یک زمانہ میں ثابت ہوتی چلی آئی ہے جس کے ساتھ پرانے زمانہ سے میلے اور جلسے بھی ہوتے چلے آئے ہیں اور راجوں اور امیروں کا اُس پر دوشالے چڑھانا ثابت ہوتا چلا آیا ہے یہ ثبوت بھی نہایت اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے اور پھر اس کے مقابل یہ عذر کرنا کہ دراصل با وا صاحب کو فتح کے طور پر بخارا کے قاضی سے یہ چولہ ملا تھا نہایت پوچ اور لچر خیال اور کسی سخت مفتری اور متعصب اور خیانت پیشہ آدمی کا منصوبہ ہے جو بالا کی جنم ساکھی کے برخلاف ہے اور کوئی کتاب اس کے اثبات میں پیش نہیں کی گئی بلکہ انگر اور بالا صاحب کی جنم ساکھی ایسے کاذب کا مونہہ سیاہ کر رہی ہے اور افسوس یہ کہ باوجود اس نہایت مکروہ افترا کے یہ مفتری طریق تحقیق کو بھی بھول گیا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ایک عرض گفتم پیش تو در گوش کن کرتار حقا کبیر کریم تو بے عیب پروردگار ہونا چاہئے۔ (ناشر)