سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 550

سَت بچن — Page 164

روحانی خزائن جلد ۔ ۱۰ سم سم کا ۱۶۴ میں عاجز ہوں کچھ بھی نہیں خاک ہوں مگر بندہ درگہ پاک ہوں میں قرباں ہوں دل سے تری راہ کا نشاں دے مجھے مرد آگاہ کا نشاں تیرا پا کر وہیں جاؤنگا کرم کر کے وہ راہ اپنی بتا جو تیرا ہو وہ اپنا ٹھہراؤں گا کہ جس میں ہواے میرے تیری رضا بتایا گیا اُس کو الہام میں کہ پائیگا تو مجھ کو اسلام میں مگر مرد عارف فلاں مرد ہے وہ اسلام کے راہ میں فرد ہے ملا تب خدا سے اُسے ایک پیر کہ چشتی طریقہ میں تھا دستگیر وہ بیعت سے اسکی ہوا فیضیاب عنا شیخ سے ذکر راه صواب پھر آیا وطن کی طرف اُس کے بعد ملے پیر کے فیض سے بخت سعد کوئی دن تو پردہ میں مستور تھا زباں چپ تھی اور سینہ میں نور تھا نہاں دل میں تھا درد و سوز و نیاز شریروں سے چھپ چھپ کے پڑھتا نماز پھر آخر کو مارا صداقت نے جوش تعشق سے جاتے رہے اُس کے ہوش ہوا پھر تو حق کے چھپانے سے تنگ محبت نے بڑھ بڑھ کے دکھلائے رنگ کہا یہ تو مجھ سے ہوا اک گناہ کہ پوشیدہ رکھی سچائی کی راہ یہ صدق و وفا سے بہت دور تھا کہ غیروں کے خوفوں سے دل چور تھا تصور سے اس بات کے ہو کے زار کہا رو کے اے میرے پروردگار ترے نام کا مجھ کو اقرار ہے ترا نام غفار و ستار ہے بلا ریب تو حتی و قدوس ہے ترے بن ہر اک راہ سالوس ہے مجھے بخش اے خالق العالمین تو سبوح وَإِنِّي من الظالمين میں تیرا ہوں اے میرے کرتار پاک نہیں تیری راہوں میں خوف ہلاک ترے در پہ جاں میری قربان ہے محبت تری خود مری جان ہے ست بچن