سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 550

سَت بچن — Page 155

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۵۵ ست بچن مصدر نہایت خوشخط قلم سے لکھا ہوا تھا اور پھر اُس بڑھے نے چاہا کہ کپڑے کو بند کرلے مگر پھر اس سے ۳۵ بھی زیادہ اصرار کیا گیا اور ہر ایک اصرار کرنے والا ایک معزز آدمی تھا اور ہم اُس وقت غالباً بیس کے قریب آدمی ہوں گے اور بعض اُسی شہر کے معزز تھے جو ہمیں ملنے آئے تھے تب اُس بڑھے نے ذرا سا پھر پردہ اٹھایا تو ایک گوشہ نکلا جس پر موٹے قلم سے بہت جلی اور خوشخط لکھا ہوا تھا لا اله الا الله محمد رسول اللہ پھر اُس بڑھے نے بند کرنا چاہا مگر فی الفور ا خویم شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی نے مبلغ تین روپیہ اُس کے ہاتھ پر رکھ دیئے جن میں سے دو روپے اُن کے اور ایک روپیہ مولوی محمد احسن صاحب کی طرف سے تھا اور شیخ صاحب پہلے اس سے بھی چار روپے دے چکے تھے۔ تب اُس بڑھے نے ذرہ اور پردہ اٹھایا۔ ایک دفعہ ہماری نظر ایک کنارہ پر جا پڑی جہاں لکھا ہوا تھا ان الدین عند الله الاسلام یعنی سچا دین اسلام ہی ہے اور کوئی نہیں۔ پھر اُس بڑھے میں کچھ قبض خاطر پیدا ہوگئی تب پھر شیخ صاحب نے فی الفور دو صاحب نے فی الفور دور و پیر اور اُس - کے ہاتھ پر رکھ دیئے یہ دور و پیه اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب کی طرف سے تھے اور پھر اُس کے خوش کرنے کے لئے شیخ صاحب نے چار روپے اور اپنی طرف سے دیدیئے اور ایک روپیہ اور ، ہمارے ایک اور مخلص کی طرف سے دیا ۔ تب یہ چوداں روپیہ پا کر وہ بڑھا خوش ہو گیا اور ہم بے تکلف دیکھنے لگے یہاں تک کہ کئی پر دے اپنے ہاتھ سے بھی اٹھا دیئے دیکھتے دیکھتے ایک جگہ یہ لکھا ہوا نکل آیا اشهد ان لا اله الا الله و اشهدان محمدا عبده ورسوله_ پھر شیخ رحمۃ اللہ صاحب نے اتفاقا دیکھا کہ چولہ کے اندر کچھ گردوغبار سا پڑا ہے اُنہوں نے تب بڑھے کو کہا کہ چولہ کو اس گرد سے صاف کرنا چاہئے لاؤ ہم ہی صاف کر دیتے ہیں یہ کہہ کر باقی کہیں بھی اٹھادیں اور ثابت ہو گیا کہ تمام قرآن ہی لکھا ہے اور کچھ نہیں۔ کسی جگہ سورۃ فاتحہ لکھی ہوئی ہے اور کسی جگہ سورۃ اخلاص اور کسی جگہ قرآن شریف کی یہ تعریف تھی کہ قرآن خدا کا پاک کلام ہے اس کو نا پاک لوگ ہاتھ نہ لگاویں معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کے لئے با وا صاحب کا ایسا سینہ کھول دیا تھا کہ اللہ رسول کے عاشق زار ہو گئے تھے ۔ غرض باوا صاحب کے اس چولہ سے نہایت قوی روشنی اس بات پر پڑتی ہے کہ وہ دین اسلام پر