سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 550

سَت بچن — Page 115

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۱۵ ست بچن باوانا تک صاحب کے کمالات اور ان کی ہتک عزت کی غرض سے دیانند کی خرافات پنجاب میں غالباً ایسا شخص کوئی بھی نہیں ہوگا جو باوانا تک صاحب کے نام سے واقف نہ ہو یا اُن کی خوبیوں سے بے خبر ہو اس لئے کچھ بھی ضرورت نہیں کہ ہم اُن کی سوانح اور طریق زندگی کی نسبت کچھ مفصل تحریر کریں لہذا صرف اس قدر لکھنا کافی ہے کہ باوا صاحب موصوف ہندوؤں کے ایک شریف خاندان میں سے تھے ۔ سن نوسو نو سو ہجری کے اخیر میں پیدا ہوئے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اخلاص رکھتے تھے اس لئے بہت جلد زہد اور پرہیز گاری اور ترک دنیا میں شہرت پاگئے اور ایسی قبولیت کے مرتبہ پر پہنچ گئے کہ در حقیقت ہندؤں کے تمام گذشتہ اکابر اور کل رشیوں رکھیوں اور دیوتوں میں سے ایک شخص بھی ایسا پیش کرنا مشکل ہے جو اُن کی نظیر ثابت ہو ہمارا انصاف ہمیں اس بات کے لئے مجبور کرتا ہے کہ ہم اقرار کریں کہ بیشک باوانا نك صاحب ان مقبول بندوں میں سے تھے جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے نور کی طرف کھینچا ہے اس میں کچھ بھی شبہ نہیں کہ ایک سچی تبدیلی خدا تعالیٰ نے اُن میں پیدا کر دی تھی اور حق اور راستی کی طرف اُن کا دل کھینچا گیا تھا اُن کے وقت میں بہت سے جاہل اور شوریدہ مغز ہند و موجود تھے جو اپنے تئیں جو گی یا بیرا گی یا سنیاسی وغیرہ ناموں سے موسوم کرتے تھے۔ اور چھپی بدکاریوں کے سہارے سے رہبانیت کا جھنڈا بہت اونچا کیا ہوا تھا سو باوا صاحب نے اپنی قوم کو یہ بھی اچھا نمونہ دیا کہ اُنہوں نے جوگی یا بیرا گی یا سنیاسی کہلانے سے نفرت کی وہ اس طور کے برہم چرچ سے بکلی بیزار تھے جس میں خدا داد قوتوں کو ناحق ضائع کر کے الہی قانون کو توڑ دیا جائے اسی غرض سے اُنہوں نے باوجود اپنے کمال