سناتن دھرم — Page 480
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۷۸ سناتن دھرم ڈھونڈتے تھے اور بنوں میں جا کر ریاضت کشی سے بڑی بڑی محنتیں کرتے تھے اور روزوں سے اپنے بدنوں کو خشک کر دیتے تھے اور گوشہ گزینی کی حالت میں اپنے پرمیشر سے دل لگاتے تھے تب وہ نور قدیم جس کا نام مختلف زبانوں میں پر میشر گاڈ خدا اللہ ہے ان پر ظاہر ہوتا تھا وہ ہرگز اس بات کے قائل نہ تھے کہ خدا کا الہام اور وحی وید تک ہی محدود ہے اور آگے ہمیشہ کے لئے انسان پر خدا کے ہم کلام ہونے کے دروازے بند ہو گئے اور قفل لگ گئے بلکہ خدا اُن سے باتیں کرتا تھا اور غیب کی باتیں اُن پر ظاہر ہوتی تھیں ۔ سچ تو یہی ہے کہ خدا کو ڈھونڈنے والے جو اس کی راہ میں مر رہے ہیں اور اس کے لئے سب کچھ تیاگ دیتے ہیں اگر خدا ان سے ایسی خشکی اور لا پرواہی کرے اور اپنے تئیں اُن پر ظاہر نہ کرے اور چھپار ہے اور آواز تک سنائی نہ دے تو وہ جیتے ہی مرجائیں اور دنیا میں کوئی بھی اُن جیسا بد نصیب نہ ہو کہ دنیا چھوڑی پر میشر کے لئے مگر وہ بھی نہ ملا دونوں جہاں ہاتھ سے گئے مگر کیا کوئی دوست اپنے دوست سے ایسا کر سکتا ہے ہرگز نہیں۔ مثل مشہور ہے کہ دوستی میں دو ستی ہوں ۔ ایک شخص مجازی عشق میں گرفتار ہوتا ہے اور ایک مدت تک درد اور سوزش کے ساتھ دن رات اپنے معشوق کو اندر ہی اندر اپنی طرف کھینچتا ہے۔ پس ناگاہ ایک مشعلہ محبت کا بشر طیکہ یہ محبت کسی شہوت پرستی پر مبنی نہ ہو اس کے معشوق کے دل پر جو ابھی غافل اور بے خبر تھا گرتا ہے تب وہ معشوق بھی اس کے درد سے ایک حصہ لے لیتا ہے گویا اُس عاشق کی دن رات کی دردیں اور آہیں اُس معشوق پر سحر کا کام کرتی ہیں۔ تب اس کا دل اُس کی طرف کھینچا جاتا ہے اور لا معلوم اسباب سے اس کے دل میں یہ بات پڑ جاتی ہے کہ یہ شخص مجھ سے پیار کرتا ہے اور نرا دل میں ہی پڑتا نہیں بلکہ آخر اس کا گرفتار ہو جاتا ہے اور دل دل سے مل جاتا ہے ۔ گویا وہ دونوں ایک ہی ہو جاتے ہیں اور عجیب تریہ کہ ایک عاشق گو ہزار پردوں میں اپنی محبت چھپاوے ضرور اس کے معشوق کو اس محبت کی خبر ہو جاتی ہے