سناتن دھرم — Page 386
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۸۴ نسیم دعوت پیدا ہو سکے پس اگر وہ طاقتیں خود بخود ہیں تو پھر خدا کچھ بھی چیز نہیں کیونکہ بقول شخصے کہ گھی سنوارے سالنا بڑی بہو کا نام ۔ اس بینائی کو وہ طاقتیں پیدا کرتی ہیں خدا کو اس میں کچھ دخل نہیں اور اگر ذرات عالم میں وہ طاقتیں نہ ہوتیں تو خدائی بے کار رہ جاتی پس ظاہر ہے کہ خدائی کا تمام مدار اس پر ہے کہ اس نے روحوں اور ذرات عالم کی تمام قو تیں خود پیدا کی ہیں اور کرتا ہے اور خود ان میں طرح طرح کے خواص رکھے ہیں اور رکھتا ہے پس وہی خواص جوڑنے کے وقت اپنا کرشمہ دکھلاتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے خدا کے ساتھ کوئی موجد برابر نہیں ہو سکتا کیونکہ گو کوئی شخص ریل کا موجد ہو یا تار کایا فوٹو گراف کا یا پریس کا یا کسی اور صنعت کا اس کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ ان قوتوں کا موجد نہیں جن قوتوں کے استعمال سے وہ کسی صنعت کو طیار کرتا ہے بلکہ یہ تمام موجد بنی بنائی قوتوں سے کام لیتے ہیں جیسا کہ انجن چلانے میں بھاپ کی طاقتوں سے کام لیا جاتا ہے پس فرق یہی ہے کہ خدا نے عنصر وغیرہ میں یہ طاقتیں خود پیدا کی ہیں مگر یہ لوگ خود طاقتیں اور قوتیں پیدا نہیں کر سکتے ۔ پس جب تک خدا کو ذرات عالم اور ارواح کی تمام قوتوں کا موجد نہ ٹھہرایا جائے تب تک خدائی اس کی ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی اور اس صورت میں اس کا درجہ ایک معمار یا نجار یا حداد یا گلگو سے ہرگز زیادہ نہیں ہوگا۔ یہ ایک بدیہی بات ہے جو رڈ کے قابل نہیں۔ پس دانشمند کو چاہیے کہ سمجھ کر جواب دے کہ بغیر سمجھ کے جواب دینا صرف بکواس ہے۔ یہ نمونہ آریہ سماجیوں کی توحید کا ہے اور پھر دوسرا امر کہ وہ اپنے پرمیشر کو قادر کس درجہ تک سمجھتے ہیں خود ظاہر ہے کیونکہ جب کہ ان کا یہ مانا ہوا اصول ہے کہ ان کا پرمیشر نہ ارواح کا خالق ہے نہ ذرات اجسام کا تو اس سے ظاہر ہے کہ اس کی قدرت ان کے نزدیک صرف اس حد تک ہے کہ وہ باہم جسم اور روح کو جوڑتا ہے اور جو ارواح اور اجسام میں گن اور خواص اور عجیب و غریب قوتیں ہیں وہ ان کے نزدیک انادی اور خود بخود ہیں پر میشر کا ان میں کچھ بھی دخل نہیں اب اس سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک ان کے پرمیشر کی قوت اور قدرت نجاروں اور آہن گروں وغیرہ صناعوں سے کچھ زیادہ نہیں کیونکہ زیادتی تو تب ہو کہ وہ ان قوتوں اور گنوں اور خاصیتوں کا