سناتن دھرم — Page 162
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۶۲ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح إِذَا نَحْنُ بَارَزْنَا فَأَيْنَ حُسَيْنُكُمْ وَإِنْ كُنْتَ تَحْمَدُهُ فَاعْلِنُ وَاخْبِرُ جب ہم میدان میں آئے تو تمہارا حسین کہاں ہوگا۔ اور اگر تو اس کی تعریف کرتا ہے پیس اُس کو خبر دے دے اَ تَحْسَبُهُ حَيًّا وَ تَاللَّهِ إِنَّنِي اَرَاهُ كَمَنْ يُدْفَى وَيُفْنَى وَيُقْبَرُ کیا تو اس کو زندہ سمجھتا ہے اور بخدا! میں دیکھتا ہوں اُس کو مثل اُس شخص کے جو کشتہ ہے اور مر گیا اور قبر میں داخل ہو گیا وَلَوْ شَاءَ رَبِّي كَانَ يَبْغِي هِدَايَتِي وَلَوْ شَاءَ رَبِّي كَانَ مِمَّنْ يُبَصَّرُ اور اگر میرا خدا چاہتا تو وہ ہدایت قبول کرتا ۔ اور اگر میرا خدا چاہتا تو وہ مجھے پہچان لیتا وَمَا إِنْ قَنَطْنَا وَالرَّجَاءُ مُعَظَّمٌ كَذَلِكَ وَحْيُّ اللَّهِ يُدْرِى وَ يُخْبِرُ اور ہم اُس کے ایمان سے نا امید نہیں ہوئے بلکہ اُمید بہت ہے۔ اسی طرح خدا کی وحی خبر دے رہی ہے وَإِنَّ قَضَاءَ اللَّهِ مَا يُخْطِءُ الْفَتَى لَهُ خَافِيَاتٌ لَّا يَرَاهَا مُفَكِّرُ اور خدا کا حکم مر د راہ کو بھولتا نہیں ۔ اُس کے لئے پوشیدہ راز ہیں کہ کوئی فکر کرنے والا اُن کو دیکھ نہیں سکتا سَيُبْدِي لَكَ الرَّحْمَنُ مَقْسُومَ حِبِّكُمْ سَعِيدٌ فَلَا يُنْسِيهِ يَوْمٌ مُّقَدَّرُ تجھ پر خدا تعالیٰ تیرے دوست محمد حسین کا مقسوم ظاہر کر دے گا ۔ سعید ہے پس روز مقدر اُس کو فراموش نہیں کرے گا وَ يُحْيى بِأَيْدِى اللَّهِ وَاللَّهُ قَادِرٌ وَيَأْتِي زَمَانُ الرُّشْدِ وَالذَّنْبُ يُغْفَرُ اور خدا کے ہاتھوں سے زندہ کیا جائے گا اور خدا قادر ہے۔ اور رشد کا زمانہ آئے گا اور گناہ بخش دیا جائے گا فَيَسْقُونَهُ مَاءَ الطَّهَارَةِ وَالتَّقَى نَسِيمُ الصَّبَا تَأْتِي بِرَيَّا يُعَطِّرُ پس پاکیزگی اور طہارت کا پانی اسے پلائیں گے۔ اور نسیم صبا خوشبولائے گی اور معطر کر دے گی ﴿٥١﴾ وَ إِنَّ كَلَامِي صَادِقٌ قَوْلُ خَالِقِي وَمَنْ عَاشَ مِنْكُمْ بُرْهَةً فَسَيَنْظُرُ شخص اور میرا کلام سچا ہے اور میرے خدا کا قول ہے۔ اور جو شخص تم میں سے کچھ زمانہ زندہ رہے گا وہ دیکھ لے گا ا تَعْجَبُ مِنْ هَذَا فَلَا تَعْجَبَنُ لَّهُ كَلامٌ مِّنَ الْمَوْلَى وَ وَحْيٌ مُطَهَّرُ کیا تو اس سے تعجب کرے گا پس کچھ تعجب نہ کر ۔ یہ خدا کا کلام ہے اور پاک وحی ہے وَمَا قُلْتُهُ مِنْ عِنْدِ نَفْسِي كَرَاجِمٍ أُرِيتُ وَمِنْ أَمْرِ الْقَضَا أَتَحَيَّرُ اور میں نے اپنے ہی دل سے انکل سے بات نہیں کی بلکہ کشفی طور پر مجھے دکھلایا جا اور میں اس سے حیران ہوں سہو کتابت معلوم ہوتا ہے دکھلایا گیا “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)