سناتن دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 566

سناتن دھرم — Page 70

روح<mark>ان</mark>ی خزائن جلد ۱۹ کشتی نوح (۴) چوتھا تغیر اس وقت تم پر آتا ہے کہ جب بلاتم پر وارد ہی ہو جاتی ہے اور اس کی سخت تاریکی تم پر احاطہ کر لیتی ہے مثلاً جب کہ فرد قرار داد جرم اور شہادتوں کے بعد حکم سزا تم کو سنایا جاتا ہے اور قید کے <mark>لئے</mark> ایک پولس مین کے تم حوالہ کئے جاتے ہو سو یہ <mark>حالت</mark> اس وقت سے مشابہ ہے جب کہ رات پڑ جاتی ہے اور ایک سخت <mark>ان</mark>دھیرا پڑ جاتا ہے اس روح<mark>ان</mark>ی <mark>حالت</mark> کے مقابل پر <mark>نماز</mark> عشاء مقرر ہے۔ (۵) پھر جب کہ تم ایک مدت تک اس مصیبت کی تاریکی میں بسر کرتے ہو تو پھر آخر <mark>خدا</mark> کا رحم تم پر جوش مارتا ہے اور تمہیں اُس تاریکی سے نجات دیتا ہے مثلاً جیسے تاریکی کے بعد پھر آخر کار صبح نکلتی ہے اور پھر وہی روشنی دن کی اپنی چمک کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے سو اس روح<mark>ان</mark>ی <mark>حالت</mark> کے ۲۵ مقابل پر <mark>نماز</mark> فجر مقرر ہے اور <mark>خدا</mark> نے <mark>تمہارے</mark> فطرتی <mark>تغیرات</mark> میں پ<mark>ان</mark>چ <mark>حالت</mark>یں دیکھ کر پ<mark>ان</mark>چ <mark>نماز</mark>یں <mark>تمہارے</mark> <mark>لئے</mark> مقرر کیں اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ <mark>نماز</mark> میں خاص <mark>تمہارے</mark> نفس کے فائدہ کے <mark>لئے</mark> ہیں <mark>پس</mark> اگر تم چاہتے ہو کہ <mark>ان</mark> <mark>بلاؤں</mark> سے <mark>بچے</mark> رہو تو تم پنجگ<mark>ان</mark>ہ <mark>نماز</mark>وں کو ترک نہ کرو کہ وہ تمہاری <mark>ان</mark>درونی اور روح<mark>ان</mark>ی <mark>تغیرات</mark> کا ظلّ ہیں۔ <mark>نماز</mark> میں آنے والی <mark>بلاؤں</mark> کا علاج ہے تم نہیں ج<mark>ان</mark>تے کہ نیا دن چڑھنے والا کس قسم کے قضاء وقد ر <mark>تمہارے</mark> <mark>لئے</mark> لائے گا <mark>پس</mark> قبل اس کے جو دن چڑھے تم اپنے مولیٰ کی جناب میں تضرع کرو کہ <mark>تمہارے</mark> <mark>لئے</mark> خیر و برکت کا دن چڑھے۔ اے امیر و اور بادشا ہو! اور دولتمند و !! آپ لوگوں میں ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں جو <mark>خدا</mark> سے ڈرتے اور اس کی تمام راہوں میں راستباز ہیں ۔ اکثر ایسے ہیں کہ دنیا کے ملک اور دنیا کے املاک سے دل لگائے ہیں اور پھر اسی میں عمر بسر کر لیتے ہیں اور موت کو یاد نہیں رکھتے ۔ ہر ایک امیر جو نما ز نہیں پڑھتا اور <mark>خدا</mark> سے لا پروا ہے اُس کے تمام نوکروں چاکروں کا گناہ اس کی گردن پر ہے۔ ہر ایک امیر جو شراب پیتا ہے اُس کی گردن پر <mark>ان</mark> لوگوں کا بھی گناہ ہے جو اس کے ماتحت ہو کر شراب میں شریک ہیں ۔ اے عقلمند و! یہ دنیا ہمیشہ کی جگہ نہیں تم سنبھل جاؤ۔ تم ہر ایک بے اعتدالی کو چھوڑ دو ہر ایک نشہ کی چیز کو ترک کرو <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کو تباہ کرنے والی صرف شراب ہی نہیں بلکہ افیون، گ<mark>ان</mark>جا ، چرس، بھنگ، تاڑی اور ہر ایک نشہ جو ہمیشہ