سبز اشتہار — Page 64
روحانی خزائن جلد ۲ ۵۲ سرمه چشم آریہ اور اُس کی قدرتوں کے نقش قدم ہیں۔ کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا اُس بہار حُسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تا تار کا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا چشمه خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں ہر ستارے میں تماشا ہے تری چمکار کا تو نے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑ کا نمک اس سے ہے شورِ محبت عاشقان زار کا کیا عجب تو نے ہر اک ذرہ میں رکھے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں کس سے کھل سکتا ہے بیچ اس عقدہ دشوار کا خوبرویوں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی ہر گل و گلشن میں ہے رنگ اُس تری گلزار کا چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خم دار کا آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب ورنہ تھا قبلہ ترا رُخ کافر و دیندار کا ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا تیرے ملنے کیلئے ہم مل گئے ہیں خاک میں تا مگر درماں ہو کچھ اس ہجر کے آزار کا ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا جاں گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا بعد اس کے اور بعد صلوٰۃ وسلام بر نبی کریم خیر الا نام محمد مصطفی احمد مجتبی خاتم المرسلین رحمۃ للعالمین اور اُس کی آل و اصحاب مطهرین و مهد بین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یہ عاجز مؤلف کتاب براہین احمد یہ خدمت میں طالبین حق کے گذارش کرتا ہے کہ مارچ ۱۸۸۶ء کے مہینے میں جب کہ یہ عاجز بمقام ہوشیار پور مقیم تھا ۔ لالہ مرلیدھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر سے جو آریہ سماج ہوشیار پور کے