سبز اشتہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 548

سبز اشتہار — Page 281

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۶۹ سرمه چشم آریه ماسٹر صاحب کے اس قول کو اسی جگہ بطور امانت رکھ کر اصل مطلب پر نظر کرنی چاہیے ۲۲۱ کہ یہ بات نہایت بدیہی اور ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کسی چیز پر محیط ہے تو اس کا علم بھی اس پر محیط ہوگا اور اس کی قدرت کاملہ بھی اس پر محیط ہو گی کیونکہ خدائے تعالیٰ کی ذات اس کی صفات سے الگ نہیں ہے تا یہ کہا جائے کہ وہ محیط ہونے کے وقت اپنی صفات کو کسی طاق پر جدا رکھ آتا ہے۔ اب جبکہ قدرت کاملہ اور علم کامل خدائے تعالیٰ کا ہر یک چیز پر محیط ہوا تو یہی حقیقت خالقیت ہے کیونکہ ہم کئی مقام میں پہلے بھی تحریر کر چکے ہیں کہ علم کامل کو بشرط قدرت عمل مستلزم ہے اگر انسان کسی چیز کی نسبت علم کامل رکھتا ہو اور با ایں ہمہ ایسے اسباب بھی اسے میسر ہوں جن سے اس کو قدرت و طاقت عمل پیدا ہو جائے تو اس چیز کو وہ بنا سکتا ہے بلکہ ہزار ہا صنعتیں جو انسان بنا رہا ہے اور ابتدائی پیدائش سے بناتا چلا آیا ہے ان کے بنائے جانے کی ضروری شرطیں یہ دو ہی ہیں اور اگر کسی چیز کا علم کامل ہو اور پھر اس پر تصرف کرنے کی قدرت کامل بھی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ چیز بنانے سے رہ جائے پس جب کہ انسان کا یہ حال ہے تو پر میشر پر وہ نا معلوم پتھر کون سے پڑ گئے کہ ایک طرف تو اس کی نسبت یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ہر یک چیز کے بارے میں اس کا علم کامل ہے اور وہ اپنے علم کامل اور قدرت کامل کے ساتھ ہر یک چیز اور ذرہ ذرہ پر محیط ہے اور ایک طرف اُس کو خالق اور پیدا کنندہ ہونے سے صاف جواب دیا جاتا ہے بقيه حاشیه منبع واصل ہے اور در حقیقت اسی ایک نقطہ سے خط و تر انبساط وامتداد پذیر ۲۲۱ ہوا ہے اور اسی نقطہ کی روحانیت تمام خط وتر میں ایک ہویت ساریہ ہے جس کا فیض اقدس اس سارے خط کو تعین بخش ہو گیا ہے ۔ عالم جس کو متصوفين اسماء اللہ سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔ اس کا اوّل واعلیٰ مظہر جس سے وہ علی وجہ التفصیل صدور پذیر ہوا ہے یہی نقطہ درمیانی ہے جس کو اصطلاحات