سبز اشتہار — Page 267
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۵۵ سرمه چشم آریه سامنے آپ کے وہمی پر میشر کا وجود حقیقت میں معدوم اور بے نشان ہے کیونکہ آپ کا ۲۰۷ پر میشر تو بوجہ اپنی کمزوری اور ناطاقتی اور ناداری اور لاچاری کے آریہ دیس میں چھپا ہوا بیٹھا تھا اور انہیں لوگوں سے اپنے کلام کا ٹھیکہ دے رکھا تھا اور باہر قدم رکھنے سے ڈرتا تھا اور اپنے منہ سے قائل تھا کہ میں اپنی ذات سے کچھ نہیں کر سکتا دوسروں کے سہارے سے میرا کام چل رہا ہے سو آریہ لوگ اسی فرضی پر میشر پر کہ دراصل ایک چور تھا نہ پرمیشر خوش ہو رہے تھے اتنے میں آفتاب صداقت ان پر چمکا اور اس سچے کامل خدا کا کلام جس سے آر یہ لوگ نا واقف تھے یعنی قرآن شریف آر یہ دیس میں جلوہ گر ہوا اور کروڑہا آریوں کو سچائی کی طرف کھینچ لایا سو اس طرح پر اس نے اپنے قادر اور کامل وجود سے ان کو اطلاع دے دی اور اپنی خدائی ان پر ظاہر کر دی اور اپنے قوی ہاتھ سے اپنا قادر مطلق ہونا ثابت کر دیا اور سب روحوں اور مادوں کی نسبت بیان کیا کہ یہ سب میرے ہی پیدا کردہ ہیں سو جن چیزوں کی نسبت آریہ لوگ اور ان کا ناکارہ پرمیشر حیران ہو رہے تھے کہ یہ چیزیں کس نے پیدا کی ہیں پیدا کرنے والے نے اپنا کلام ان تک پہنچا کر اور اپنے روشن نشان دکھلا کر بقيه حاشیه باتوں سے متنفر ہو جاتا ہے جو اس کے مخدوم کو بری معلوم ہوتی ہیں وہ نافرمانی کو اس ۲۰۷ جہت سے نہیں چھوڑتا کہ اس پر سزا مترتب ہوگی اور تعمیل حکم اس وجہ سے نہیں کرتا کہ اس سے انعام ملے گا اور کوئی قول یا فعل اس کا اپنے اخلاق کاملہ کے تقاضا سے صادر نہیں ہوتا بلکہ محض اپنے مخدوم حقیقی کی اطاعت کی وجہ سے جو اس کی سرشت میں رچ گئی ہے صادر ہوتا ہے اور بے اختیار اسی کی طرف اور اس کی مرضیات کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے وہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری گال کا پھیرنا خواہ نخواہ واجب نہیں جانتا اور نہ طمانچہ کی جگہ طمانچہ مارنا اس کو لابد اضروری معلوم ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے یک رنگ دل سے فتوئی پوچھتا ہے جو اس وقت خاص میں