سبز اشتہار — Page 214
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۰۲ سرمه چشم آریه ۱۵۴ ہندوؤں کے پرمیشر میں ایجادی قدرت نہیں تو اگر اس شہد کی مکھی کی طرح صرف جوڑنا جاڑ نا اس کا بے نظیر بھی ہوا تو بھلا یہ کیا کمال ہوا۔ اس جگہ کوئی انجان یہ دھوکا نہ کھائے کہ آریہ سماج والے تو اس بات کو مانتے ہیں کہ گو پر میشر پیدا کرنے پر قادر نہیں لیکن وہ اس نے ۔ اجسام اور ارواح کے جوڑ نے جاڑ نے سے طرح طرح کی مفید چیزیں تو بناتا ہے جیسے انے چاند بنایا سورج بنایا زمین کو عمدگی سے بچھا ا یا انسان کو آنکھیں میں ادیں د کان دیئے قوت ناطقه شامه بخشی سو کیا ایسے ایسے عجائب کاموں سے اس کی قدرت ثابت نہیں ہوتی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب کچھ علمی وسعت پر موقوف ہے ایجادی قدرت جو کسی شے اور اس کے خاصہ کو عدم سے پیدا کرنے کو کہتے ہیں وہ اسی قدر فعل سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ وہ تب ہی ثابت ہوتی ہے کہ جب ساتھ اس کے یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ خدائے تعالیٰ صرف اشیاء کا جوڑ نے جاڑنے والا نہیں بلکہ وہ ان تمام اشیاء اور ان کے جمیع خواص کو پیدا کرنے والا بھی ہے کیونکہ اگر ایسا تسلیم نہ کیا جائے اور خدائے تعالیٰ کا صرف اسی قدر اختیار و اقتدار سمجھا جائے کہ وہ بعض اشیاء کو بعض سے پیوند کر کے ان کے اصلی خواص کو متجلی کر کے دکھا دیتا ہے تو اس سے صرف اس کے معلومات کی فراخی ثابت ہوتی ہے نہ قادریت کاملہ ۔ وجہ یہ کہ جب جمیع اشیاء خود بخود قدیم سے موجود مان لی جائیں تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ان اشیاء کے خواص بھی جو بحالت بساطت مخفی طور پر ان میں پائے جاتے ہیں یا بحالت ترکیب کھلے کھلے طور پر ان سے ظہور میں آتے ہیں وہ بھی سب قدیم ہی ہیں گو ہم ان پر اطلاع پائیں یا نہ پائیں ۔ مثلاً خدائے تعالیٰ نے جو آنکھوں کو نہایت عجیب طور سے بنایا ہے سو اس میں یہ خیال نہیں ہو سکتا کہ آنکھوں کی صرف مجموعی ترکیب کے پیدا ہونے کے بعد خاصہ رؤیت اس میں پیدا ہو گیا ہے بلکہ صحیح فلاسفی اس میں یہ ہے کہ جو کچھ مجموعی ترکیب میں رؤیت پیدا ہونے کا نتیجہ نکلا ہے وہ نتیجہ مخفی طور پر ان تمام اجزا میں پایا جاتا تھا۔ جو پیچھے سے رطوبات و طبقات اور