سبز اشتہار — Page 179
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۶۷ سرمه چشم آریہ جو قدرت نے ان کو دے رکھی ہے باہر چلتے جاتے ہیں اور اپنی محدود عقل سے کل کائنات 19 کے عمیق در عمیق رازوں کو حل کرنا چاہتے ہیں سو یہ افراط ہے جیسے بکلی تحقیق و تفتیش سے مونہ پھیر لینا تفریط ہے اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَ اقْصِدْ فِي مَشْيِكَ لا یعنی اپنی چال میں توسط اختیار کر۔ نہ ایسا فکر کو منجمد کر لینا چاہیے کہ جو ہزار ہا نکات و لطائف الہیات قابل دریافت ہیں ان کی تحصیل سے محروم رہ جائیں اور نہ اس قدر تیزی کرنی چاہیے کہ ان فکروں میں پڑ جائیں کہ خدائے تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے اور یا اس نے اس ق قدر ارواح اور اجسام کس طرح بنالئے ہیں اور یا اس نے کیونکر اکیلا ہونے کی حالت میں اس قدر وسیع عالم بناڈالا ہے۔ اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ ارواح کا حادث اور مخلوق ہونا قرآن شریف میں بڑے بڑے قوی اور قطعی دلائل سے بیان کیا گیا ہے چنانچہ برعایت ایجاز واجمال چند دلائل ان میں سے نمونہ کے طور پر اس جگہ لکھے جاتے ہیں ۔ اول یہ بات بہ بداہت ثابت ہے کہ تمام ر ہے کہ تمام روحیں ہمیشہ اور ہر حال میں خدائے تعالیٰ کی ماتحت اور زیر حکم ہیں اور بحر مخلوق ہونے کے اور کوئی وجہ موجود نہیں جس نے روحوں کو ایسے کامل طور پر خدائے تعالیٰ کی ماتحت اور زیر حکم کر دیا ہو سو یہ روحوں کے حادث اور مخلوق ہونے پر اول دلیل ہے۔ دوم یہ بات بھی یہ بداہت ثابت ہے کہ تمام روحیں خاص خاص استعدادوں اور طاقتوں میں محدود اور محصور ہے ہیں جیسا کہ بنی آدم کے اختلاف روحانی حالات و استعدادات پر نظر کر کے ثابت ہوتا ہے اور یہ تحدید ایک محدود کو چاہتی ہے جس سے ضرورت محدث کی ثابت ہو کر ( جو محدد ہے ) حدوث روحوں کا یہ پایہ ثبوت پہنچتا ہے۔ سوم یہ بات بھی کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ تمام روحیں عجز و احتیاج کے داغ سے آلودہ ہیں اور اپنی تکمیل اور بقا کے لئے ایک ایسی ذات کی محتاج ہیں جو کامل اور قادر اور ا لقمان : ۲۰