سبز اشتہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 548

سبز اشتہار — Page 128

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۱۶ سرمه چشم آریه ۶۸ کی سند نہیں مانگی بلکہ ایک ادنی استعداد کا اردو خوان بھی میرے جواب کو پڑھ کر سمجھ سکتا ہے کہ میں نے تو آپ سے یہ ثبوت مانگا تھا کہ قرآن شریف یا حدیث میں کہاں لکھا ہے کہ چاند دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گر پڑا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آستینوں میں سے اس کو نکال دیا سو آپ نے اس کا کچھ ثبوت نہ دیا۔ قوله میرا سوال تھا کہ جو بات خلاف قانون قدرت ہے ( یعنی شق القمر ) وہ کس طرح ہو سکتی ۔ اقول بے شک اس قدر حصہ آپ کے سوال کا تو بہت صحیح اور درست ہے کہ خلاف قانون قدرت از لی وابدی کوئی بات ظہور میں نہیں آتی لیکن ساتھ اس کے یہ دعوئی آپ کا کہ اس قانون از لی وابدی پر انسانی عقل نے احاطہ تام کر لیا ہے اور پھر اس خیال باطل ۷۸ بقیه که خبر تو تھی لیکن خیانت کی راہ سے دوسروں کے بہکانے اور دھوکا دینے کے لئے حاشیه ایک امر حق کو چھپانا چاہا ہے یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس قسم کے جھوٹے اور لغو مسائل کا حتی الوسع لوگوں کے روبرو ظاہر نہ کرنا پنڈت دیا نند کی طرف سے بطور وصیت فہمائش ہے جس پر ان کے پیر و عمل کر رہے ہیں اور یہ آخری سبب قرین قیاس ہے اور یہی وجہ تھی کہ ماسٹر صاحب نے اپنا تمام جوش اسی میں خرچ کیا کہ ایسا نالائق مضمون اور ایسا باطل خیال ستیارتھ پرکاش میں ہرگز نہیں ہے اور نہ پنڈت دیانند صاحب کی شان کے لائق ہے کہ ایسی احمقانہ باتیں ان کی قلم سے نکلیں مگر شکر ہے کہ آخر چور پکڑا گیا ۔ اور اس جگہ ماسٹر صاحب کو بھی معلوم رہے کہ پنڈت صاحب کی یہ ایک نئی غلطی نہیں بلکہ ان کی اکثر تحریر میں ایسی ہی ہیں کہ جن کو غلطستان کہنا چاہیے اُن کی فطرت ہی کچھ ایسی واقعہ تھی کہ بار یک باتوں تک ان کی عقل نہیں پہنچ سکتی تھی اور خالص اور مغشوش دلائل میں فرق نہیں کر سکتے تھے ہاں بعض اوقات پیچھے سے وقت گزرنے کے بعد سمجھ بھی جاتے تھے کہ ہم سے