روئداد جلسۂ دعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 450 of 769

روئداد جلسۂ دعا — Page 450

روحانی خزائن جلد ۱۵ لده۔ تریاق القلوب چھٹی قسم کی ذلت پر میاں ثناء اللہ کی معرفت اطلاع ہوئی ۔ اور رہی یہ بات کہ محمد حسین کا کسی ریاست میں وظیفہ مقرر ہو گیا ہے ۔ یہ ایسا امر ہے کہ اس کو کوئی دانشمند عزت قرار نہیں دے گا ۔ ان ریاستوں میں تو ہر ایک قسم کے لوگوں کے وظیفے مقرر ہیں جن میں سے بعض کے ناموں کا ذکر بھی قابل شرم ہے ۔ پھر اگر محمد حسین کا وظیفہ بھی کسی نے مقرر کر دیا تو کسی عزت کا موجب ہوا بلکہ اس جگہ تو وہ فقرہ یاد آتا ہے کہ بئس الفقير على باب الامير - غرض یہ پیشگوئی جو محمد حسین اور اُس کے دور فیقوں کی نسبت تھی اعلیٰ درجہ پر پوری ہو گئی ۔ ہم قبول کرتے ہیں جو ان لوگوں کی اس قسم کی ذلت نہیں ہوئی جواد نے طبقہ کے لوگوں کی ذلت ہوتی ہے مگر پیشگوئی میں پہلے سے اس کی تصریح تھی کہ مثلی ذلت ہو گی جیسا کہ پیشگوئی کا یہ فقرہ ہے جزاء سيئة بمثلها و ترهقهم ذلة یعنی جس قسم کی ذلت ان لوگوں نے پہنچائی اسی قسم کی ذلت ان کو پہنچے گی ۔ اب ہم اس سوال کو زٹلی اور تبتی سے تو نہیں پوچھتے کیونکہ اُن کی ذلت اور عزت دونوں طفیلی ہیں مگر جو شخص چاہے محم ، دونوں طفیلی ہیں مگر جو شخص چاہے محمد حسین کو قرآن شریف ہاتھ دے کر حلفا پوچھ لے کہ یہ متو یہ مثلی ذلت جو الہام سے مفہوم ہوتی ہے ۔ یہ تمہیں اور تمہارے رفیقوں کو پہنچ گئی یا نہیں ؟ بے حیائی سے بات کو حد سے بڑھانا کسی شریف انسان کا کام نہیں ہے بلکہ گندوں اور سفلوں کا کام ہے لیکن ایک منصف مزاج سوچ سکتا ہے کہ الہام الہی میں یہ تو نہیں بتلایا گیا تھا کہ وہ ذلت کسی زدوکوب کے ذریعہ سے ہو گی یا کسی اور جسمانی ضرر سے یا خون کرنے سے وہ ذلت پہنچائی جائے گی بلکہ الہام الہی کے صاف اور صریح یہ لفظ تھے کہ ذلت صرف اس قسم کی ہو گی جس قسم کی ذلت ان لوگوں نے پہنچائی ۔ الہام موجود ہے ہزاروں آدمیوں میں چھپ کر شائع ہو چکا ہے۔ پھر یہودیوں کی طرح اس میں تحریف کرنا اُس بے حیا انسان کا کام ہے جس کو میں