روئداد جلسۂ دعا — Page 434
۱۳۲ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۳۴ تریاق القلوب حاشي کہ میں کسی مسلمان کو کا فرنہیں جانتا ہاں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ جو شخص مسلمان ہو کر ایک سچے ولی اللہ کے دشمن بن جاتے ہیں اُن سے نیک عملوں کی توفیق چھین لی جاتی ہے اور دن بدن اُن کے دل کا نور کم ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک دن چراغ سحری کی طرح گل ہو جاتا ہے۔ سو یہ میرا عقیدہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے ۔ غرض جس شخص نے ناحق جوش میں آ کر مجھ کو کافر قرار دیا اور میرے لئے فتوئی طیار کیا کہ یہ شخص کا فر دجال کہ یہ شخص کا فرد جال کذاب ہے۔ اس نے خدا تعالیٰ کے حکم سے تو کچھ خوف نہ کیا کہ وہ اہل قبلہ اور کلمہ گو کو کیوں کافر بناتا ہے اور ہزار ہا بندگان خدا کو جو کتاب اللہ کے تابع اور شعار اسلام ظاہر کرتے ہیں کیوں دائرہ اسلام سے خارج کرتا ہے لیکن مجسٹریٹ ضلع کی ایک دھمکی سے ہمیشہ کے لئے یہ قبول کر لیا کہ میں آئیندہ ان کو کافر اور دجال اور کذاب نہیں کہوں گا۔ گا ۔ ت ہو جاتا ہے اور سب سے : ، پہلے دولتِ ایمان اُس سے چھین لیتا ہے تب بلعم کی طرح ص صرف ی اور زبانی میں وال اس کے پاس ہو جاتی ہے اور جو بندوں کی خدا تعال کی طرف نسبت انس اور شوق اور ذوق اور محبت اور تبتل اور تقوی کی ہوتی ہے وہ اُس سے کھوئی جاتی ہے اور وہ خود محسوس کرتا ہے کہ ایام موجودہ سے دس سال پہلے جو کچھ اُس کو رقت اور انشراح اور بسط اور خدا کی طرف جھکنے اور دنیا اور اہل دنیا سے بیزاری کی حالت دل میں موجود تھی اور جس طرح بچے زہد کی چمک کبھی کبھی اُس کو آگاہ کرتی تھی کہ وہ خدا کے عباد صالحین میں سے ہو سکتا ہے۔ اب وہ چمک بکلی اُس کے اندر سے جاتی رہی ہے اور دنیا طلبی کی ایک آگ اُس کے اندر بھڑک اُٹھتی ہے اور انکار اہل اللہ کی شامت سے اُس کو یہ بھی خیال نہیں آتا کہ جس زمانہ میں اُس کے خیال نیک اور پاک اور زاہدانہ تھے اب اُس زمانہ کی نسبت اُس کی عمر بہت زیادہ ہو گئی ہے ۔ غرض اُس کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ مجھ کو کیا ہو گیا اور دنیا طلبی میں گرا جاتا اور دنیا کا جاہ ڈھونڈتا ہے حالانکہ موت کے قریب ہوتا ہے ۔ غرض اسی طرح ایمان کا نور اُس کے دل سے چھین لیتے ہیں اور اولیاء اللہ کی عداوت سے دوسرا سبب سلب ایمان کا