روئداد جلسۂ دعا — Page 420
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۲۴ ۴۲۰ تریاق القلوب یادر ہے کہ صدیق وہ ہوتا ہے جس کو سچائیوں کا کامل طور پر علم بھی ہو اور پھر کامل اور طبعی طور پر اُن پر قائم بھی ہو۔ مثلاً اُس کو اُن معارف کی حقیقت معلوم ہو کہ وحدانیت باری تعالیٰ کیا شے ہے اور اُس کی اطاعت کیا شے اور محبت باری عزَّ اسمه کیا شے اور شرک سے کس مرتبہ اخلاص پر مخلصی حاصل ہو سکتی ہے اور عبودیت کی کیا حقیقت ہے اور اخلاص کی حقیقت کیا اور توبہ کی حقیقت کیا اور صبر اور تو کل اور رضا اور محویت اور فنا اور صدق اور وفا اور تواضع اور سخا اور ابتہال اور دعا اور عفو اور حیا اور دیانت اور امانت اور اتقا وغیرہ اخلاق فاضلہ کی کیا کیا حقیقتیں ہیں ۔ پھر ماسوا اس کے ان تمام صفات فاضلہ پر قائم بھی ہو ۔ اور تیسرا کمال جوا کا بر اولیاء کو دیا جاتا ہے مرتبہ شہادت ہے اور مرتبہ شہادت سے وہ مرتبہ مراد ہے جبکہ انسان اپنی قوت ایمان سے اس قدر اپنے خدا اور روزِ جزا پر یقین کر لیتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے ۔ تب اس یقین کی برکت سے اعمال صالحہ کی مرارت اور تلخی جن عظیم الشان لوگوں کو بڑے بڑے عظیم ذمہ داریوں کے کام ملتے ہیں اور بعض اوقات خدا تعالیٰ سے علم پا کر خضر کی طرح ایسے کام بھی اُن کو کرنے پڑتے ہیں جن سے ایک کو تہ بین شخص کی نظر میں وہ بعض اخلاقی حالتوں میں یا معاشرت کے طریقوں میں قابل ملامت ٹھہرتے ہیں ۔ اُن کے دشمنوں کی باتوں کی طرف دیکھ کر ہرگز بدظن نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اندھے دشمنوں نے کسی نبی اور رسول کو اپنی نکتہ چینی سے مستثنیٰ نہیں رکھا ۔ مثلاً وہ موسیٰ مرد خدا جس کی نسبت توریت میں آیا ہے کہ وہ زمین کے تمام باشندوں سے زیادہ تر حلیم اور امین ہے مخالفوں نے اُن پر یہ اعتراض کئے ہیں کہ گویا وہ نعوذ باللہ نہایت درجہ کا سخت دل اور خونی انسان تھا جس کے حکم سے کئی لاکھ شیر خوار بچے قتل کئے گئے اور ایسا ہی کہتے ہیں کہ وہ نہ دیانت اور امانت سے حصہ رکھتا تھا اور نہ عہد کا پابند تھا کیونکہ اُس کے ایماء سے بنی اسرائیل نے کئی لاکھ روپیہ کے سونے اور چاندی کے برتن اور قیمتی زیور بنی اسرائیل سے بطور مستعار لئے اور سہو کتابت معلوم ہوتا ہے مصریوں “ ہونا چاہیے۔ (ناشر) ا ۱۲۴ حاشي