روئداد جلسۂ دعا — Page 413
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۳ تریاق القلوب ایک قسطنطنیہ والی چٹھی ملی ہے جس کو ہم اپنے ناظرین کی اطلاع کیلئے درج ذیل کئے دیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے ہمیں کمال افسوس ہوتا ہے۔ افسوس اس وجہ سے کہ ہمیں اپنی ساری اُمیدوں کے برخلاف اس مجرمانہ خیانت کو جو سب سے بڑی اور سب - سے زیادہ مہذب و منتظم اسلامی سلطنت کے وائس قونصل کی جانب سے بڑی بے دردی کے ساتھ عمل میں آئی اپنے ان کانوں سے سننا اور پبلک پر ظاہر کرنا پڑا ہے۔ جو کیفیت جناب مولوی حافظ عبد الرحمن صاحب الہندی نزیل قسطنطنیہ نے ہمیں معلوم کرائی ہے۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حسین یک کامی نے بڑی بے شرمی کے ساتھ مظلومان کریٹ کے روپیہ کو بغیر ڈکار لینے کے ہضم کر لیا، اور کارکن کمیٹی چندہ نے بڑی فراست اور عرقریزی کے ساتھ اُن سے روپیہ اگلوایا۔ مگر یہ دریافت نہیں ہوا کہ وائس قونصل مذکور پر عدالت عثمانیہ میں کوئی نالش کی گئی یا نہیں۔ ہماری رائے میں ایسے خائن کو عدالتانہ کارروائی کے ذریعہ عبرت انگیز سزا دینی چاہیے۔ بہر حال ہم امید کرتے ہیں کہ یہی ایک کیس غبن کا ہوگا جو اس چندہ کے متعلق وقوع میں آیا ہو اور جو رقوم چندہ جناب ملا عبدالقیوم صاحب اول تعلقہ دارلنگسگو ر اور جناب عبدالعزیز بادشاہ صاحب ٹرکش قونصل مدراس کی معرفت حیدر آباد اور مدراس سے روانہ ہوئیں وہ بلا خیانت قسطنطنیہ کو کمیٹی چندہ کے پاس برابر پہنچ گئی ہوں گی“۔ قسطنطنیہ کی چٹھی“ ہندوستان کے مسلمانوں نے جو گزشتہ دو سالوں میں مہاجرین کریٹ اور مجروحین عساکر حرب یونان کے واسطے چندہ فراہم کر کے قونصل ہائے