روئداد جلسۂ دعا — Page 385
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۸۵ تریاق القلوب کنکریوں کے ذریعہ سے موت تھی ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کو عذاب ہوا وہ کیا تھا تلوار کے ذریعہ سے موت تھی ۔ ایسا ہی بہت سی اُمتوں پر ان کی کثرت گناہوں کے سبب سے عذاب ہوتے رہے وہ کیا تھے؟ سب موت تھی ۔ کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ جو دنیا میں انبیاء کے مخالفوں پر آسمان سے عذاب نازل ہوتے رہے وہ موت کی حد تک نہیں پہنچے تھے صرف ایسے تھے جیسے اُستاد بچوں کو جھڑ کی دیتا ہے یا کوئی خفیف سی درد ہو جاتی ہے۔ اللہ اللہ تعصب کس قدر کمال کو پہنچ گیا ہے کہ میری دشمنی کے لئے اب نوح کی قوم کے عذاب اور لوط کی قوم کے عذاب اور نمرود کی قوم کے عذاب اور عاد و ثمود کے عذاب اور صالح نبی کی قوم کے عذاب اور حضرت موسیٰ کے دشمنوں پر جو عذاب نازل ہوئے اس کے یہی معنے کئے جاتے ہیں کہ وہ لوگ مرے نہیں تھے تا کسی طرح ۱۰۹ لیکھرام کی پیشگوئی کی تکذیب کی جائے ۔ یہ لوگ تکذیب کے لئے ہر طرف ہاتھ پیر مار کر یہ عذر بھی پیش کرتے ہیں کہ جہنم میں جو عذاب ہوگا اُس میں کہاں موت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تمام جہنمی اول موت کا ہی عذاب اُٹھا کر پھر جہنم تک پہنچتے ہیں۔ موت کے بغیر جہنم میں کون گیا ۔ اور جہنم میں بھی موت ہوتی اگر خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ نہ ہوتا کہ پھر موت نہیں ہو گی مگر باوجود اس کے خدا تعالیٰ نے جہنمیوں کو زندہ بھی نہیں کہا۔ ↓ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ اِنَّهُ مَنْ يَّأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوْتُ فِيهَا وَلَا يَحْيي ۔ یعنی جو شخص مجرم ہونے کی حالت میں مرے گا اُس کے لئے جہنم ہے کہ وہ اُس میں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔ اب دیکھو کہ جہنمی کے واسطے زندگی بھی نہیں گو ابدی عذاب کے پورا کرنے کے لئے موت بھی نہیں ۔ ماسوا اس کے لیکھرام پر تو اسی دنیا میں یہ عذاب کا وعدہ تھا نہ کہ آخرت میں پس یہ عذاب نوح کی قوم کے عذاب یا ا طه : ۷۵