روئداد جلسۂ دعا — Page 365
روحانی خزائن جلد ۱۵ بقيه حاشيا ۳۶۵ تریاق القلوب اپنی عادات سابقہ سے رجوع اختیار کر کے خدا تعالیٰ کے پاک وعدہ کے موافق کسی قدر مہلت ملنے کا فائدہ اُٹھا لیا۔ ہاں چونکہ اُس کا رجوع کامل طور پر نہ تھا اس لئے مہلت بھی کامل طور پر نہ ملی ۔ اور دوسرے اس پہلو سے یہ پیشگوئی ثابت ہوئی کہ جب آٹھم نے خدا تعالیٰ کی مہلت دینے کا قدر نہ کیا اور سچ کی گواہی نہ دی بلکہ اِس نشان کو تین حملوں کے بہانہ سے چھپانا چاہا تو خدا تعالیٰ نے جلد تر اُس کو پکڑ لیا ۔ ہاں خدا تعالیٰ نے لیکھرام کی پیشگوئی کی طرح جلالی اور وہ بلاشبہ دونوں معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آل تھے لیکن کلام اس بات میں ہے کہ کیوں آل کی اعلیٰ قسم کو چھوڑا گیا ہے اور ادنی پر فخر کیا جاتا ہے۔ تعجب کہ وہ اعلیٰ قسم امام حسن اور حسین کے آل ہونے کی یا اور کسی کے آل ہونے کی جس کی رو سے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی مال کے وارث ٹھہرتے ہیں اور بہشت کے سردار کہلاتے ہیں یہ لوگ اس کا تو کچھ ذکر ہی نہیں کرتے۔ اور ایک فانی رشتہ کو بار بار پیش کیا جاتا ہے جس کے ساتھ روحانی وراثت لازم ملزوم نہیں اور اگر یہ فانی رشتہ جو جسمانی تعلق سے پیدا ہوتا ہے ضروری طور پر خدا تعالیٰ کے نزد یک حقدار ہوتا تو سب سے پہلے قابیل کو یہ حق ملتا جو حضرت آدم علیہ السلام کا پہلوٹا بیٹا اور پیغمبر زادہ تھا اور پھر اس کے بعد حضرت نوح آدم ثانی کے اُس بیٹے کو حق ملتا جس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ کا لقب پایا۔ سواہل معرفت اور حقیقت کا یہ مذہب ہے کہ اگر حضرت امام حسین اور امام حسن رضی اللہ عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سفلی رشتہ کے لحاظ سے آل بھی نہ ہوتے تب بھی بوجہ اس کے کہ وہ روحانی رشتہ کے لحاظ سے آسمان پر آل ٹھہر گئے تھے۔ وہ بلا شبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی مال کے وارث ہوتے ۔ جبکہ فانی جسم کا ایک رشتہ ہوتا ہے تو کیا روح کا کوئی بھی رشتہ نہیں بلکہ حدیث صحیح سے اور خود قرآن شریف سے بھی ثابت ہے کہ روحوں میں بھی رشتے ہوتے ہیں اور ازل سے دوستی اور دشمنی بھی ہوتی ہے۔ اب ایک عقلمند انسان سوچ سکتا ہے کہ کیا لا زوال اور ابدی طور پر آل رسول ہونا جائے فخر ہے یا جسمانی طور پر آل رسول ہونا جو بغیر تقویٰ اور طہارت اور ایمان کے کچھ بھی چیز نہیں ۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسر شان کرتے ہیں بلکہ اس تحریر سے هود : ۴۷