روئداد جلسۂ دعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 769

روئداد جلسۂ دعا — Page 302

روحانی خزائن جلد ۱۵ ٣٠٢ تریاق القلوب سے اعتراف کرتا ہوا (اس نیاز نامہ کے ذریعہ سے ) قادیاں کے مبارک مقام پر (گویا) حاضر ہو کر آپ کے رحم کا خواستگار ہوتا ہے۔ یکم جولائی ۹۷ ء سے یکم جولائی ۹۸ ء تک جو اس گنہگار کو مہلت دی گئی اب آسمانی بادشاہت میں آپ کے مقابلہ میں اپنے آپ کو مجرم قرار دیتا ہے ۔ ( اس موقعہ پر مجھے القا ہوا کہ جس طرح آپ کی دعا مقبول ہوئی اسی طرح میری التجا و عاجزی قبول ہو کر حضرت اقدس کے حضور سے معافی و رہائی دی گئی ) مجھے اب زیادہ معذرت کرنے کی ضرورت نہیں ۔ تا ہم اس قدر ضرور عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں ابتدا سے آپ کی اس دعوت پر بہت غور سے جو یائے حال رہتا رہا اور میری تحقیق ایمانداری و صاف دلی پر مبنی تھی ۔ حتی کہ (۹۰) فیصدی یقین کا مدارج پہنچ گیا ۔ (۱) آپ کے شہر کے آریہ مخالفوں نے گواہی دی کہ آپ بچپن سے صادق و پاکباز تھے۔ (۲) آپ جوانی سے اپنے تمام اوقات خدائے واحد حتی و قیوم کی عبادت میں لگا تار صرف فرماتے رہے۔ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ L (۳) آپ کا حسن بیان تمام عالمان ربانی سے صاف صاف علیحدہ نظر آتا ہے آپ کی تمام تصنیفات میں اب میں ایک زندہ روح ہے ( فِيهَا هُدًى وَ نُورٌ ) آپ کا مشن کسی فساد اور گورنمنٹ موجودہ کی ( جو تمام حالات سے اطاعت و شکر گزاری کے قابل ہے ) بغاوت کی راہنمائی نہیں کرتا ۔ ان الله لا يحب في الارض الفساد حتى كه میرے بہت سے مہربان دوستوں نے جو اُن سے آپ کے معاملات پر میں ہمیشہ بحث کرتا تھا مجھے قادیانی کے خطاب سے مخاطب کیا ۔ پھر یہ کہ با ایں ہمہ کیوں ؟ میرے منہ سے وہ بیت مثنوی کا نکلا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں جب لاہور میں اُن کے پاس گیا تو مجھ کو اپنے معتبر دوستوں کے ذریعہ سے (جن سے پہلے میری بحث رہتی تھی ) خبر ملی کہ آپ سے ایسی باتیں ظہور میں آئی ہیں جس سے کسی مسلمان ایماندار کو آپ کے ا التوبة : ١٢٠ المائدة : ۴۵