روئداد جلسۂ دعا — Page 163
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۶۳ تریاق القلوب ۔ بجز قوت حلم اور عفو کے فنا کر دینا چاہئے ۔ پس اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ یا تو خدا تعالیٰ کی تعلیم غلط ہے اور یا اُس نے اپنے فعل میں ہی غلطی کھائی اور اپنے پیدا کرنے کے کام کو ہشیاری اور آخر بینی سے نہیں کیا اور دونوں صورتوں میں ایسا مذہب صحیح نہیں ٹھہر سکتا جس کی تعلیم صحیح اُصولوں پر مبنی نہ ہو یا جس کا خدا اپنے فعل میں غلط کار ہو اس کے مقابل پر جب ہم قرآن شریف کی تعلیم دیکھتے بھتے ہیں ہیں تو تو اس اس کے کمال اور جمال پر نظر کر کے بے اختیار رقت اور وجد پیدا ہوتا ا ہے۔ ہے۔ دیکھو کیا عمدہ یہ تعلیم ہے جس کا اس آیت میں بیان ہے۔ جَزَؤُا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ ، یعنی قانون انصاف کے رو سے ہر ایک بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنے گنہگار کو مع ص اپنے گنہگار کو معاف کرے بشرطیکہ اُس معاف کرنے میں شخص مجرم کی اصلاح ہو نہ یہ کہ معاف کرنے سے اور بھی زیادہ دلیر اور بیباک ہو جائے تو ایسا شخص خدا تعالی سے بڑا اجر پائے گا۔ اب ایسی کامل تعلیم انجیل کے اوراق میں سے کہاں تلاش کریں اور کس سے پوچھیں اور کون ہے جو ہمیں بتا دے اگر حلم اور عفو اور ترک مقابلہ یونہی ہر جگہ بغیر کسی محل اور موقع کے قابلِ تعریف ہے تو ایک دیوث جس کی عورت پر نا جائز حملہ کیا جائے اور وہ در گذر کر کے اس حملہ کو ہونے دے مدح وثنا کے لائق سمجھا جائے گا اور ایک جین مت والا جن کے مذہب میں کسی جاندار کو مارنا روا نہیں اپنے اس خُلق سے کہ وہ جُوں اور پستو اور سانپ اور بچھو کو بھی نہیں مارتا اعلیٰ درجہ کی اخلاقی حالت پر متصور ہوگا ۔ پس معلوم ہوا کہ ایسی تعلیم جو شتر بے مہار کی طرح کسی خط مستقیم پر نہیں چلتی اور نہ محل اور موقع کی پر واہ رکھتی ہے کمالات انسانی کے لئے سخت مضر اور زہر قاتل ہے ۔ ۔ ہاں ممکن ہے کہ حضرت مسیح نے ایسی تعلیم تع کو کسی قانون مختص الوقت يا مختص القوم کی طرح مصلحتا استعمال کیا ہو مگر تعلیم وہی صحیح اور کامل ہے جو آیت قرآنی مندرجہ بالا میں بیان فرمائی گئی ہے۔ ایسا ہی انجیل کی یہ تعلیم کہ بد نظری سے کسی عورت کو مت دیکھو جس کا ماحصل یہ ہے کہ پاک نظر سے بیشک دیکھ لیا کرو۔ یہ ایک الشورى :