روئداد جلسۂ دعا — Page 112
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۱۲ ستاره قیصره اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کر سکوں اس سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جو بلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کر کے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور اُمید سے بڑھ کر میری سرافرازی کا موجب ہوگا ۔ اور اس امید اور یقین کا موجب حضور قیصرہ ہند کے وہ اخلاق فاضلہ تھے جن کی تمام ممالک مشرقیہ میں دھوم ہے اور جو جناب ملکہ معظمہ کے وسیع ملک کی طرح وسعت اور کشادگی میں ایسے بے مثل ہیں جو ان کی نظیر دوسری جگہ تلاش کرنا خیال محال ہے مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا اور میرا کانشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہر یہ عاجزانہ یعنی رساله تحفه قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہوا اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں۔ یقیناً کوئی اور باعث ہے جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں ۔ لہذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمه دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں ۔ دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اُس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں ۔ اسی غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتا ہوں ۔ اور میں حضور عالی حضرت جناب قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں یہ چند الفاظ بیان کرنے کے لئے جرات کرتا ہوں کہ میں پنجاب کے ایک معزز خاندان مغلیہ میں سے ہوں اور سکھوں