ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی — Page 24
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۲۴ کشتی نوح جاتے ہیں اور دین کے رو سے وہ نرا مفلس اور ننگا ہوتا ہے اور آخر دنیا کے خیالات میں ہی مرتا اور ۲۲ ابدی <mark>جہنم</mark> میں ڈالا جاتا ہے اور کبھی <mark><mark>اس</mark></mark> رنگ میں بھی امتحان ہوتا ہے کہ دنیا سے بھی نامراد ر<mark><mark>کھا</mark></mark> جاتا ہے مگر مؤخر الذکر امتحان ایسا خطر ناک نہیں جیسا کہ پہلا کیونکہ پہلے امتحان والا زیادہ مغرور ہوتا ہے بہر حال یہ دونوں فریق مغضوب علیھم ہیں۔ کچی خوش حالی کا سر چشمہ خدا ہے پس جبکہ <mark><mark>اس</mark></mark> حتى وقيوم خدا سے یہ لوگ بے خبر ہیں بلکہ لا پروا ہیں اور <mark><mark>اس</mark></mark> سے منہ پھیر رہے ہیں تو سچی خوشحالی اُن کو کہاں نصیب ہو سکتی ہے مبار کی ہو <mark><mark>اس</mark></mark> انسان کو جو <mark><mark>اس</mark></mark> راز کو سمجھ لے اور ہلاک ہو <mark><mark>گی</mark></mark>ا وہ شخص جس نے <mark><mark>اس</mark></mark> راز کو نہیں سمجھا۔ <mark><mark>اس</mark></mark>ی طرح تمہیں چاہیے کہ <mark><mark>اس</mark></mark> دنیا کے فلسفیوں کی پیروی مت کرو اور ان کو عزت کی نگہ سے مت دیکھو کہ یہ سب نادانیاں ہیں۔ سچا فلسفہ وہ ہے جو خدا نے تمہیں اپنی کلام میں سکھلایا ہے۔ ہلاک ہو گئے وہ لوگ جو <mark><mark>اس</mark></mark> دنیوی فلسفہ کے عاشق ہیں اور کامیاب ہیں وہ لوگ جنہوں نے بچے علم اور فلسفہ کو خدا کی کتاب میں ڈھونڈا ۔ نادانی کی راہیں کیوں اختیار کرتے ہو کیا تم خدا کو وہ باتیں سکھلاؤ گے جو <mark><mark>اُس</mark></mark>ے معلوم نہیں ۔ کیا تم اندھوں کے پیچھے دوڑتے ہو کہ وہ تمہیں راہ دکھلا دیں ۔ اے نادانو ! وہ جو خود اندھا ہے وہ تمہیں کیا راہ د<mark><mark>کھا</mark></mark>ئے گا بلکہ سچا فلسفہ روح القدس سے حاصل ہوتا ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا <mark><mark>گی</mark></mark>ا ہے۔ تم روح کے وسیلہ سے ان پاک علوم تک پہنچائے جاؤ گے جن تک غیروں کی رسائی نہیں اگر صدق سے مانگو تو آخر تم <mark><mark>اس</mark></mark>ے پاؤ گے تب سمجھو گے کہ یہی علم ہے جو دل کو تاز<mark><mark>گی</mark></mark> اور زند<mark><mark>گی</mark></mark> بخشتا ہے اور یقین کے مینار تک پہنچا دیتا ہے۔ وہ جو خود مردار خوار ہے وہ کہاں سے تمہارے لئے پاک غذ الائے گا۔ وہ جو خود اندھا ہے وہ کیونکر تمہیں د<mark><mark>کھا</mark></mark>وے گا۔ ہر ایک پاک حکمت آسمان سے آتی ہے پس تم زمینی لوگوں سے کیا ڈھونڈتے ہو جن کی روحیں آسمان کی طرف جاتی ہیں وہی حکمت کے وارث ہیں جن کو خود تسلی نہیں وہ کیونکر تمہیں تسلی دے سکتے ہیں مگر پہلے دلی پاکیز<mark><mark>گی</mark></mark> ضروری ہے پہلے صدق و صفا ضروری ہے پھر بعد <mark><mark>اس</mark></mark> کے یہ سب کچھ تمہیں ملے گا۔ یہ خیال مت کرو کہ خدا کی وحی <mark><mark><mark>آگ</mark></mark></mark>ے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اور قرآن شریف پر شریعت ختم ہو گئی مگر وحی ختم نہیں ہوئی کیونکہ وہ بچے دین کی جان ہے جس دین میں وحی الہی کا سلسلہ جاری نہیں وہ دین مردہ ہے اور خدا <mark><mark>اُس</mark></mark> کے ساتھ نہیں۔ منہ