ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 566

ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی — Page 367

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۶۵ نسیم دعوت لکھا جاوے۔ کہیں چا۔ تمہیں چاہیے کہ آریوں کے رشیوں اور بزرگوں کی نسبت ہر گز سختی کے الفاظ استعمال نہ کروتا وہ بھی خدائے قدوس اور اس کے رسول پاک کو گالیاں نہ دیں کیونکہ ان کو ﴿۳﴾ معرفت نہیں دی گئی اس لئے وہ نہیں جانتے کہ کسی کو گالیاں دیتے ہیں ۔ یا د رکھو کہ ہر ایک جو نفسانی جوشوں کا تابع ہے۔ ممکن نہیں کہ اس کے لبوں سے حکمت اور معرفت کی بات نکل سکے بلکہ ہر ایک قول اس کا فساد کے کیڑوں کا ایک انڈہ ہوتا ہے، بجز اس کے اور کچھ نہیں۔ پس اگر تم روح القدس کی تعلیم سے بولنا چاہتے ہو تو تمام نفسانی جوش اور نفسانی غضب اپنے اندر سے باہر نکال دو تب پاک معرفت کے بھید تمہارے ہونٹوں پر جاری ہوں گے اور آسمان پر تم دنیا کے لئے ایک مفید چیز سمجھے جاؤ گے اور تمہاری عمریں بڑھائی جائیں گی تمسخر سے بات نہ کرو اور ٹھٹھے سے کام نہ لو اور چاہیے کہ سفلہ پن اور اوباش پن کا تمہارے کلام پر کچھ رنگ نہ ہو تا حکمت کا چشمہ تم پر کھلے۔ حکمت کی باتیں دلوں کو فتح کرتی ہیں لیکن تمسخر اور سفاہت کی باتیں فساد پھیلاتی ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو سکے سچی باتوں کو نرمی کے لباس میں بتاؤ تا سامعین کے لئے موجب ملال نہ ہوں ۔ جو شخص حقیقت کو نہیں سوچتا اور نفس سرکش کا بندہ ہو کر بد زبانی کرتا ہے اور شرارت کے منصوبے جوڑتا ہے۔ وہ ناپاک ہے۔ اس کو کبھی خدا کی طرف راہ نہیں ملتی اور نہ کبھی حکمت اور حق کی بات اُس کے منہ پر جاری ہوتی ہے پس اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کی را ہیں تم پر کھلیں تو نفسانی جوشوں سے دور رہو اور کھیل بازی کے طور پر بخشیں مت کرو کہ یہ کچھ چیز نہیں اور وقت ضائع کرنا ہے بدی کا جواب بدی کے ساتھ مت دو ۔ نہ قول سے نہ فعل سے تا خدا تمہاری حمایت کرے اور چاہیے کہ دردمند دل کے ساتھ سچائی کو لوگوں کے سامنے پیش کرو نہ ٹھٹھے اور ہنسی سے کیونکہ مردہ ہے وہ دل جو ٹھٹھا ہنسی اپنا طریق رکھتا ہے اور نا پاک ہے وہ نفس جو حکمت اور سچائی کے طریق کو نہ آپ اختیار کرتا ہے اور نہ دوسرے کو اختیار کرنے دیتا ہے۔ سو تم اگر پاک علم کے وارث بننا چاہتے ہو تو نفسانی جوش سے کوئی بات