رازِ حقیقت — Page 413
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۱۳ ايام الصلح پس یہ کیا و جاہت ہوئی بلکہ یہ تو قضیہ معکوسہ اور نبی اولوالعزم کی ایک ہتک ہے۔ اور یہ کہنا کہ ان سب باتوں کو وہ اپنا فخر سمجھیں گے بالکل بے ہودہ خیال ہے۔ لیکن اگر آسمان سے نازل نہ ہوں تو یہ ان کی وجاہت ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ ، غرض واپس آنے میں کوئی وجاہت نہیں بلکہ بقول شیخ سعدی - سخت است پس از جاه تحکم بر دن ۔ دوسرے کے حکم کے نیچے اسلام کی خدمت کریں گے ۔ اور مجد د صاحب اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ علماء اسلام ان کے منکر ہو جائیں گے اور قریب ہے کہ اُن پر حملہ کریں۔ دیکھو یہ خوب وجاہت ہے کہ ادنی ادنی ملا مقابلہ کے لئے اُٹھیں گے اور آثار سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ حجج الکرامہ میں ہے کہ ان کی تکفیر بھی ہوگی کیونکہ مہدی اور اُس کی جماعت پر کفر کا فتوی لکھا جائے گا اور علماء امت اس کو کافر اور کذاب اور دجال کہیں گے ۔ پس جب کہ مہدی موعود مع اپنی جماعت کے کافر اور دجال ٹھہرائے جائیں گے تو اس سے یقینی طور پر معلوم ہوا کہ مسیح موعود پر بھی کفر کا فتویٰ لگے گا کیونکہ وہ مہدی اور اس کی جماعت سے الگ نہیں ہوں گے۔ اب دیکھو کہ آثار صحیحہ سے ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود کو نالائق بد بخت پلید طبع مولوی کا فر ٹھہرائیں گے اور دجال کہیں گے اور کفر کا فتوی اُن کی نسبت لکھا جائے گا۔ اب انصافاً سوچو کہ کیا یہی وجاہت ہے جس کے لئے مسیح کو دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے؟ کیا نا چیز اور ذلیل ملاؤں سے گالیاں کھانا اور کافر اور دجال کہلانا یہی وجاہت ہے؟ آثار صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسیح موعود کی جس قدر پلید ملاؤں کے ہاتھ سے بے عزتی ہوگی اور جس قد روہ نا پاک طبع مولویوں کے منہ سے کافر اور فاسق اور دجال کے الفاظ سنیں گے وہ نہایت درجہ کی ہتک ہو گی جو پلید طبع مولوی فتوے لکھنے والے کریں گے اور خدا کا اُن مولویوں پر غضب ہو گا۔ آثار صحیحہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت کے مولوی تمام روئے زمین کے انسانوں سے بدتر ۱۲۶ اور پلید تر ہوں گے کیونکہ وہ مسیح جیسے راستباز کو کافر اور دجال ٹھہرائیں گے۔ غرض مسیح موعود کو القمر : ۵۶