رازِ حقیقت — Page 366
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۶۶ ايام الصلح خدا سے تجھے پہنچے اُس کا ذکر لوگوں کے پاس کر۔ سو ہمیں اس گورنمنٹ کا شکر کرنا واجب ہے کیونکہ ہم اس گورنمنٹ سے پہلے ایک لوہے کے تنور میں تھے۔ اگر یہ گورنمنٹ ہمارے ملک میں قدم نہ ۱۲۵ رکھتی تو شایدار ن شاید اب تک تمام مسلمان سکھوں کی طرح ہو جاتے۔ جو شخص ان تمام اُمور پر غور کر ۔ کرے گا کہ سکھوں کے عہد میں اسلام اور اسلامی شعار کے کہاں تک حالات پہنچ گئے تھے اور کس طرح دن بدن جہالت کا کیڑا کھاتا جاتا تھا وہ بے شک گواہی دے گا کہ انگریزوں کا اس ملک میں آنا مسلمانوں کے لئے در حقیقت ایک نہایت بزرگ نعمت الہی ہے۔ پس جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک نعمت ہے تو پھر جو شخص خدا تعالیٰ کی نعم جو شخص خدا تعالیٰ کی نعمت کو بے عزتی کی نظر سے دیکھے وہ بلا شبہ بدذات رسید اور بد کردار ہوگا۔ کیا حدیث صحیح میں نہیں ہے کہ جو شخص انہ ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کا شکر بھی نہیں کرتا ؟ افسوس کہ اس اشتہار کے لکھنے والے نے نہایت جلے ہوئے دل سے بیان کیا ہے کہ کیوں انگریزوں کی سلطنت کی تعریف کی گئی اور کیوں رومی سلطنت کی شکر گزاری نہیں کی گئی۔ اس کا یہی جواب ہے کہ اگر چہ رومی سلطنت باعث اسلامی سلطنت ہونے کے تعظیم کے لائق ہے لیکن جس قدر اس سلطنت انگریزی کے ہم پر احسان ہیں رومی سلطنت کے ہرگز نہیں ہیں۔ یہ نیکی اسی سلطنت کے ہاتھ سے ہماری نسبت مقدر تھی کہ ہمیں اُس نے ایسی حالت میں پا کر کہ ہمارے مذہب کی آزادی بالکل چھن گئی تھی اور جو واجب الادا شعار اسلام تھے اُن سے ہم روکے گئے تھے اور قریب قریب وحشیوں کے ہماری حالت پہنچ گئی تھی اور علم اُٹھ گیا تھا اور جہالت بڑھ گئی تھی ۔ ایسے وقت میں خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ڈور سے لایا اور اس کا آنا ہمارے لئے ایسا ہوا کہ ہم یکدفعہ تاریکی سے روشنی میں آگئے اور قید سے آزادی میں داخل ہوئے اور نبوت کے زمانہ کی طرح اس ملک میں دعوت اسلام ہونے لگی اور ہمارے خدا نے بھی جس کی نظر کے سامنے ہر ایک سلطنت ہے اپنے قدیم وعدے کے پورا کرنے کے لئے اسی سلطنت کو موزوں دیکھا اور در حقیقت اس گورنمنٹ سے اس قدر ہمیں فوائد پہنچے جن کو ہم گن نہیں سکتے