رازِ حقیقت — Page 298
۶۴ روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۹۸ ایام اصلح بقیه حاشيه اور پھر حکومت اور امارت تک پہنچایا۔ یہاں تک کہ چند صدیوں کے بعد ہی وہ رُوئے زمین کے صرف دوقو میں یہودا اور بن یامین کی اپنے ملک میں واپس آئیں اور دس قو میں اُن کی مشرق میں رہیں اور چونکہ اب تک یہود پتہ نہیں بتلا سکے کہ وہ قو میں کہاں ہیں اور نہ انہوں نے اُن سے خط و کتابت اور رشتہ کا تعلق رکھا۔ اس لئے اس واق لئے اس واقعہ سے یہ احتمال پیدا ہوتا ہے کہ انجام کار وہ قو میں مسلمان ہوگئی ہوں گی۔ پھر جب ہم اس قصہ کو اسی جگہ چھوڑ کر افغانوں کے سوانح پر نظر کرتے ہیں کہ وہ اپنے باپ دادوں سے قدیم سے یہ سنتے آئے ہیں کہ دراصل وہ اسرائیلی ہیں جیسا کہ کتاب مخزن افغانی“ میں مفصل لکھا ہے تو اس امر میں کچھ بھی شک و شبہ نہیں رہتا کہ یہ لوگ انہی دس قوموں میں سے ہیں جو مشرق میں نا پیدا نشان بتلائی جاتی ہیں اور ان ہی اسرائیلیوں میں سے کشمیری بھی ہیں جو اپنی شکل اور پیرا یہ میں افغانوں سے بہت کچھ ملتے ہیں۔ اور تاریخ بر نیر میں کئی اور انگریزوں کے حوالہ سے ان کی نسبت بھی یہ ثبوت دیا ہے کہ وہ اسرائیلی الاصل ہیں۔ اور ایسے امر کے بحث کے وقت جس کو ایک قوم پشت به پشت اپنے خاندان اور نسب کی نسبت تسلیم کرتی چلی آئی ہو یہ بالکل نامناسب ہے کہ ہم چند بیہودہ قیاسوں کو ہاتھ میں لے کر ان کی مسلمات کو رد کر دیں۔ اگر ایسا کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں کوئی قوم بھی اپنی صحت قومیت کو ثابت نہیں کر سکتی۔ ہمیں اس بات کو اول درجہ کی دلیل قرار دینا چاہئیے کہ ایک قوم با وجود ہزاروں اور لاکھوں اپنے افراد کے پھر ایک بات پر متفق ہو پھر جبکہ کل افغان ہندوستان اور کابل اور قندهار و غیره سرحدی زمینوں کے اپنے تئیں اسرائیلی ظاہر کرتے ہیں تو سخت بیوقوفی ہوگی کہ خواہ نخواہ ان کی مسلمات قدیمہ سے انکار کیا جائے۔ قوموں کی جانچ پڑتال میں یہی کافی ثبوت اور اطمینان کے لئے وضع استقامت ہے کہ جو کسی قوم میں ان کے خاندان اور قومیت کی نسبت مشہور واقعات ہوں اُن کو مان لیا جائے اور ایسے امور میں اس سے زیادہ ثبوت ممکن ہی نہیں کہ ایک قوم با وجود اپنی کثرت برادری اور کثرت انتشار نطفہ کے ایک قول پر متفق ہو اور اگر یہ ثبوت قابلِ اعتبار نہ ہو تو پھر اس زمانہ میں مسلمانوں ہو اور یہ کی جس قدر قو میں ہیں مثلاً سید اور قریشی اور مغل و غیرہ یہ سب ۔ اور یہ سب بے ثبوت اور صرف ز ر صرف زبانی دعوی ٹھہریں گی ۔ لیکن یہ ہماری سخت غلطی ہوگی کہ ہم ان اخبار مشہورہ متواترہ کونظر انداز کریں جو ہر ایک قوم اپنی صحت قومیت کے بارے میں بطور تاریخی امر کے اپنے پاس رکھتی ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ کوئی قوم اپنے خاندان کے بیان کرنے میں حد سے زیادہ مبالغات کر دے مگر ہمیں نہیں چاہیے کہ مبالغات کو دیکھ کریا کئی فضول اور بے ربط باتیں پا کر اصل امر کو بھی رڈ کر دیں۔ بلکہ مناسب تو یہ ہے کہ وہ زوائد جو در حقیقت فضول معلوم ہوں چھوڑ دیئے جائیں اور نفس امر کو جس پر قوم کا اتفاق ہے لیا جائے ۔ پس اس طریق سے ہر ایک محقق کو ماننا پڑے گا کہ قوم افغان ضرور بنی اسرائیل ہے۔ ہر ایک کو خود اپنے نفس کو اور اپنی قوم کو زیر بحث رکھ کر سوچنا چاہیے کہ اگر وہ قوم جس میں وہ اپنے شیں داخل سمجھتا ہے کوئی دوسرا شخص محض چند قیاسی باتیں مد نظر رکھ کر اس قوم سے اس کو خارج کر دے اور تسلیم نہ کرے کہ وہ اس قوم میں سے ہے اور اس کے ان ثبوتوں کو جو پشت به پشت کے بیانات سے معلوم ہوئے ہیں نظر انداز کرے اور مجمع عظیم کے اتفاق کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھے تو ایسا آدمی کیسا فتنہ انگیز