رازِ حقیقت — Page 264
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۶۴ ایام الصلح اُس گروہ نے جو حضرت عیسی پر ایمان لائے تھے پیشگوئیوں کے بینات سے دلیل پکڑی تھی اور متشابہات کو چھوڑ دیا تھا ایسا ہی اُن بزرگ عیسائیوں نے بھی کیا اور ہزار ہا نیک بخت انسان اُن میں سے اسلام میں داخل ہوئے ۔ غرض ان دونوں قوموں یہود اور نصاریٰ میں سے جس گروہ نے متشابہات پر جم کر انکار پر زور دیا اور بینات پیشگوئیوں سے جو ظہور میں آئیں فائدہ نہ اٹھایا اُن دونوں گروہ کا قرآن شریف میں جا بجا ذکر ہے اور یہ ذکر اس لئے کیا گیا کہ تا اُن کی بدبختی کے ملاحظہ سے مسلمانوں کو سبق حاصل ہو اور اس بات سے متنبہ رہیں کہ یہود و نصاری کی مانند بینات کو چھوڑ کر اور متشابہات میں پڑ کر ہلاک نہ ہو جائیں ۔ اور ایسی پیشگوئیوں کے بارے میں جو مامورین من اللہ کے لئے پہلے سے بیان کی جاتی ہیں اُمید نہ رکھیں کہ وہ اپنے تمام پہلوؤں کے رُو سے ظاہری طور پر ہی پوری ہوں گی بلکہ اس بات کے ماننے کے لئے تیار رہیں کہ قدیم سنت اللہ کے موافق بعض حصے ایسی پیشگوئیوں کے استعارات اور مجازات کے رنگ میں بھی ہوتے ہیں۔ اور اسی رنگ میں وہ پوری بھی ہو جاتی ہیں ۔ مگر غافل اور سطحی خیال کے انسان ہنوز انتظار میں لگے رہتے ہیں کہ گویا ابھی وہ باتیں پوری نہیں ہوئیں بلکہ آئندہ ہوں گی ۔ جیسا کہ ابھی تک یہود اسی بات کو روتے ہیں کہ ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا اور پھر ان کا مسیح موعود بڑے بادشاہ کی طرح ظاہر ہوگا اور یہودیوں کو امارت اور حکومت بخشے گا۔ حالانکہ یہ سب باتیں پوری ہو چکیں اور اس پر انیس سو برس کے قریب گذر گیا اور آنے والا آ بھی گیا۔ اور اس دنیا سے اُٹھایا بھی گیا۔ یہ بات نہایت کار آمد اور یاد رکھنے کے لائق تھی کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے مامور ہو کر آتے ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی یا محدث اور مجدد ان کی نسبت جو پہلی کتابوں میں یا رسولوں کی معرفت پیشگوئیاں کی جاتی ہیں اُن کے دو حصے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ علامات جو ظاہری طور پر وقوع میں آتی ہیں اور بینات کا حکم رکھتی ہیں۔ اور ایک وہ متشابہات جو استعارات اور مجازات کے رنگ میں ہوتی ہیں پس جن کے دلوں میں زیغ اور کبھی ہوتی ہے وہ متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور طالب صادق ۳۵ بینات اور محکمات سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ یہود اور عیسائیوں کو یہ ابتلا پیش آچکے ہیں ۔ پس