رازِ حقیقت — Page 255
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۵۵ ايام الصلح اس امام معصوم کو ہاتھ اور زبان سے دُکھ دیا آخر بجر قتل کے راضی نہ ہوئے اور پھر وقتا فوقتاً ہمیشہ اس اُمت کے اماموں اور راستبازوں اور مجددوں کو ستاتے رہے اور کافر اور بے دین اور زندیق نام رکھتے رہے۔ ہزاروں صادق ان کے ہاتھ سے ستائے گئے اور نہ صرف یہ کہ ان کا نام کا فر رکھا بلکہ جہاں تک بس چل سکا قتل کرنے اور ذلیل کرنے اور قید کرانے سے فرق نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اب ہمارا زمانہ پہنچا اور تیرھویں صدی میں جابجا خود وہ لوگ یہ وعظ کرتے تھے کہ چودھویں صدی میں امام مہدی یا مسیح موعود آئے گا اور کم سے کم یہ کہ ایک بڑا مجد د پیدا ہوگا لیکن جب چودھویں صدی کے سر پر وہ مجدد پیدا ہوا اور نہ صرف خدا تعالیٰ کے الہام نے اس کا نام مسیح موعود رکھا بلکہ زمانہ کے فتن موجودہ نے بھی بزبانِ حال یہی فتویٰ دیا کہ اس کا نام مسیح موعود چاہیے تو اس کی سخت تکذیب کی اور جہاں تک ممکن تھا اس کو ایذا دی اور طرح طرح کے حیلوں اور مکروں سے اس کو ذلیل اور نابود کرنا چاہا اور اگر خدا تعالیٰ کے فضل سے گورنمنٹ برطانیہ کی اس ملک ہند میں سلطنت نہ ہوتی تو مدت سے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے معدوم کر دیتے۔ اور یہ بات ظاہر تھی کہ یہ زمانہ ایمانی اور اعتقادی فتنوں کا زمانہ تھا اور لاکھوں انسانوں کے اعتقاد توحید سے برگشتہ ہو کر مخلوق پرستی کی طرف جھک گئے تھے اور زیادہ تر حصہ مخلوق پرستی کا جس پر زور دیا جاتا ۲۷ تھا وہ یہی تھا کہ صلیبی نجات کی حمایت میں قلموں اور زبانوں سے وہ کام لیا گیا تھا کہ اگر نسخہ عالم کے تمام صفحات میں تلاش کریں تو تائید باطل میں یہ سرگرمی کسی اور زمانہ میں کبھی ثابت نہیں ہوگی۔ اور جبکہ صلیبی نجات کے حامیوں کی تحریریں انتہا درجہ کی تیزی تک پہنچ گئی تھیں اور اسلامی تو حید اور نبی عربی خیر الرسل علیہ السلام کی عفت اور عزت اور حقانیت اور کتاب اللہ قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے پر کمال ظلم اور تعدی سے حملے کئے گئے تھے اور وہ بیجا حملے جن کتابوں اور رسالوں اور اخباروں میں کئے گئے تھے ان کی تعداد کی سات کروڑ تک نوبت پہنچ گئی تھی اور یہ سب کچھ تیرھویں صدی کے ختم ہونے تک