رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 550

رازِ حقیقت — Page 241

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۴۱ ايام الصلح کہ ہما را دعا کرنا ایک قوت متقناطیسی رکھتا ہے اور فضل اور رحمت الہی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ نماز کا مغز اور روح بھی دعا ہی ہے جو سورہ فاتحہ میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے جب ہم اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ کہتے ہیں تو اس دعا کے ذریعہ سے اس نور کو اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے اُتر تا اور دلوں کو یقین اور محبت سے منور کرتا ہے۔ بعض لوگ جلدی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم دعا سے منع نہیں کرتے مگر دعا سے مطلب صرف ۱۳ عبادت ہے جس پر ثواب مترتب ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ لوگ نہیں سوچتے کہ ہر ایک عبادت جس کے اندر خدا تعالیٰ کی طرف سے رُوحانیت پیدا نہیں ہوتی اور ہر ایک ثواب جس کی محض خیال کے طور پر کسی آئندہ زمانہ پر امید رکھی جاتی ہے وہ سب خیال باطل ہے حقیقی عبادت اور حقیقی ثواب وہی ہے جس کے اسی دنیا میں انوار اور برکات محسوس بھی ہوں ۔ ہماری پرستش کی قبولیت کے آثار یہی ہیں کہ ہم عین دُعا کے وقت میں اپنے دل کی آنکھ سے مشاہدہ کریں کہ ایک تریاقی نور خدا سے اُتر تا اور ہمارے دل کے زہریلے مواد کو کھوتا اور ہمارے پر ایک شعلہ کی طرح گرتا اور فی الفور ہمیں ایک پاک کیفیت انشراح صدر اور یقین اور محبت اور لذت اور اُنس اور ذوق سے پُر کر دیتا ہے۔ اگر یہ امر نہیں ہے تو پھر دُعا اور عبادت بھی ایک رسم اور عادت ہے۔ ہر ایک دُعا گو ہماری دنیوی مشکل کشائی کے لئے ہو مگر ہماری ایمانی حالت اور عرفانی مرتبت پرگزر کر آتی ہے۔ یعنی اول ہمیں ایمان اور عرفان میں ترقی بخشتی ہے اور ایک پاک سکینت اور انشراح صدر اور اطمینان اور حقیقی خوشحالی ہمیں عطا کر کے پھر ہماری دنیوی مکروہات پر اپنا اثر ڈالتی ہے اور جس پہلو سے مناسب ہے اس پہلو سے ہمارے غم کو دور کر دیتی ہے۔ پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہے کہ دُعا اُسی حالت میں دعا کہلا سکتی ہے کہ جب در حقیقت اس میں ایک قوت کشش ہو اور واقعی طور پر دعا کرنے کے بعد آسمان سے ایک نور اترے جو ہماری گھبراہٹ کو دور کرے اور ہمیں انشراح صدر بخشے اور سکینت اور اطمینان عطا کرے۔ ہاں حکیم مطلق ہماری دعاؤں کے بعد دو طور سے نصرت اور امداد کو نازل کرتا ہے۔ الفاتحة : ٦