رازِ حقیقت — Page 239
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۳۹ ایام الصلح کھینچتی ۔ ہم اپنے خدا کو دیکھ لیتے ہیں اور دُعا اور استجابت میں ایک رشتہ ہے کہ ابتدا سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا برابر چلا آتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ کا ارادہ کسی بات کے کرنے کے لئے توجہ فرماتا ہے تو سنت اللہ یہ ہے کہ اُس کا کوئی مخلص بنده اضطرار اور کرب اور قلق کے ساتھ دُعا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنی تمام ہمت اور تمام توجہ اس امر کے ہو جانے کے لئے مصروف کرتا ہے۔ تب اُس مرد فانی کی دُعائیں فیوض الٰہی کو آسمان سے بھی سمان سے بیچتی ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے نئے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن سے کام بن جائے ۔ یہ دُعا اگر چہ بعالم ظاہر انسان کے ہاتھوں سے ہوتی ہے مگر در حقیقت وہ انسان خدا میں فانی ہوتا ہے اور دُعا کرنے کے وقت میں حضرت احدیت وجلال میں ایسے فنا کے قدم سے آتا ہے کہ اُس وقت وہ ہاتھ اُس کا ہاتھ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہی دُعا ہے جس سے خدا پہچانا جاتا ہے اور اُس ذوالجلال کی ہستی کا پتہ لگتا ہے جو ہزاروں پردوں میں مخفی ہے۔ دُعا کرنے والوں کے لئے آسمان زمین سے نزدیک آ جاتا ہے اور دُعا قبول ہو کر مشکل کشائی کے لئے نئے اسباب پیدا کئے جاتے ہیں اور اُن کا علم پیش از وقت دیا جاتا ہے اور کم سے کم یہ کہ میخ آہنی کی طرح قبولیت دعا کا یقین غیب سے دل میں بیٹھ جاتا ہے ۔ سچ یہی ہے کہ اگر یہ دُعا نہ ہوتی تو کوئی انسان خدا شناسی کے بارے میں حق الیقین تک نہ پہنچ سکتا۔ دُعا سے الہام ملتا ہے۔ دُعا سے ہم خدا تعالیٰ کے ساتھ کلام کرتے ہیں ۔ جب انسان اخلاص اور توحید اور محبت اور صدق اور صفا کے قدم سے دُعا کرتا کرتا فنا کی حالت تک پہنچ جاتا ہے تب وہ زندہ خدا اُس پر ظاہر ہوتا ہے جو لوگوں سے پوشیدہ ہے دُعا کی ضرورت نہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم اپنے دنیوی مطالب کو پاویں بلکہ کوئی انسان بغیر ان قدرتی نشانوں کے ظاہر ہونے کے جو دُعا کے بعد ظاہر ہوتے ہیں اُس سچے ذوالجلال خدا کو پاہی نہیں سکتا جس سے بہت سے دل دور پڑے ہوئے ہیں۔ نادان خیال کرتا ہے کہ دعا ایک لغو اور بیہودہ امر ہے مگر اُسے معلوم نہیں کہ صرف ایک دُعا ہی ہے جس سے خداوند ذوالجلال ڈھونڈ نے والوں پر ؟ نے والوں پر تجلی کرتا اور آنا الْقَادِر کا الہام اُن کے دلوں پر ڈالتا ہے۔ ہر ایک یقین کا بھوکا اور پیاسا یا درکھے کہ اس زندگی میں روحانی