رازِ حقیقت — Page 235
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۳۵ ايام الصلح قانون قدرت ہی بتلا رہا ہے کہ علم طب ظنی ہے اور تمام تدابیر اور معالجات بھی ظنی تو اس صورت میں کس قدر بد نصیبی ہے کہ ایسے خلیات پر بھروسہ کر کے مبدء فیض اور رحمت سے بذریعہ دُعا طلب فضل نہ کیا جائے ۔ دُعا سے ہم کیا چاہتے ہیں؟ یہی تو چاہتے ہیں کہ وہ عالم الغیب جس کو اصل حقیقت مرض کی بھی معلوم ہے اور دوا بھی معلوم ہے وہ ہماری دستگیری فرماوے اور چاہے تو وہ دوائیں ہمارے لئے میسر کرے جو نافع ہوں اور یا اپنے فضل اور کرم سے وہ دن ہی ہم کو نہ دکھلاوے کہ ہمیں دواؤں اور طبیبوں کی حاجت پڑے۔ کیا اس میں شک ہے کہ ایک اعلیٰ ذات تمام طاقتوں والی موجود ہے جس کے ارادہ اور حکم سے ہم جیتے اور مرتے ہیں۔ اور جس طرف اس کا ارادہ جھکتا ہے تمام نظام زمین اور آسمان کا اسی طرف جھک جاتا ہے۔ اگر وہ چاہتا ہے کہ کسی ملک کی حالت صحت کسی وقت عمدہ ہو تو ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن سے پانی اُس ملک کا ہر ایک عفونت سے محفوظ رہے اور ہوا میں کوئی تغیر غیر طبعی پیدا نہ ہوا اور غذا ئیں صالحہ میسر آئیں ۔ اور دوسرے تمام مخفی اسباب کیا ارضی اور کیا سماوی جو مضر صحت ہیں ظہور اور بروز نہ کریں۔ اور اگر وہ کسی ملک کے لئے وبا اور موت کو ے چاہتا ہے تو وباء کے پیدا کرنے والے اسباب پیدا کر دیتا ہے کیونکہ تمام ملكوت السماوات والارض اُس کے ہاتھ میں ہے۔ اور ہر ایک ذرہ دوا اور غذا اور اجرام اور اجسام کا اُس کی آواز سنتا ہے یہ نہیں کہ وہ دنیا کو پیدا کر کے معطل اور بے اختیار کی طرح الگ ہو کر بیٹھ گیا ہے بلکہ اب بھی وہ دنیا کا خالق ایسا ہی ہے جیسا کہ پہلے تھا۔ چند سال میں ہمارے جسم کے پہلے اجزا تحلیل پا جاتے ہیں اور دوسرے اجزا اُن کی جگہ آ جاتے ہیں۔ سو یہ سلسلہ خلق ا ق اور آفرینش ہے جو اور آ برابر جاری رہتا ہے ایک عالم فنا پذیر ہوتا ہے اور دوسرا عالم اُس کی جگہ پکڑتا ہے۔ ایسا ہی ہمارا خدا قيوم العالم بھی ہے جس کے سہارے سے ہر ایک چیز کی بقا ہے۔ یہ نہیں کہ اُس نے کسی روح اور جسم کو پیدا نہیں کیا یا پیدا کر کے الگ ہو گیا بلکہ وہ فی الواقع ہر ایک جان کی جان ہے اور ہر ایک موجود محض اس سے فیض پا کر قائم رہ سکتا ہے اور فیض پا کر ابدی زندگی حاصل کرتا ہے جیسا کہ ہم بغیر اس کے جی نہیں سکتے ایسا ہی بغیر اس کے ہمارا وجود بھی پیدا نہیں ہوا۔ پس جب کہ وہ ایسا